http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 23 August, 2008, 11:41 GMT 16:41 PST

ذیشان ظفر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

بائیس دن، پانچ حملے، ایک سو انیس ہلاک

پاکستان میں اگست کے پہلے بائیس دنوں میں ہونے والے پانچ بم حملوں میں ایک سو انیس افراد ہلاک اور ایک سو ستتر زخمی ہو گئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں چودہ سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔

صوبہ سرحد کے شورش زدہ ضلع سوات اور قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں جاری فوجی آپریشن کے بعد ملک کے مخلتف حصوں میں ریموٹ کنٹرول اور خودکش بم حملوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا۔

واہ حملے ردِ عمل ہیں: مولوی عمر
وڈیو: خود کش حملوں کے بعد
واہ فیکٹری دھماکوں کی تصاویر
آپ کی رائے: خودکش دھماکے
واہ فیکٹری میں کیا کچھ بنتا ہے؟

دو اگست سوات میں پولیس کی ایک گاڑی کبل کے ہزارہ پل کے قریب سڑک پر نصب ایک بم سے ٹکرائی جس کے نتیجے میں پانچ اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہوگئے۔

بارہ اگست صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور کے نواح میں بڈھ بیر کے علاقے میں پاکستان فضائیہ کی ایک گاڑی پر بم حملے میں فضائیہ کے آٹھ اہلکاروں سمیت بارہ افراد ہلاک اور بارہ ہی شدید زخمی ہو گئے۔

تیرہ اگست خودکش بم حملہ رات کو لاہور کے علاقے علامہ اقبال ٹاون کی مون مارکیٹ میں ڈیوٹی پر معمور پولیس اہلکاروں پر ہوا جس میں پولیس کے ایک سب انسپکٹر سمیت آٹھ افراد ہلاک اور پچیس زخمی ہو گئے ۔

انیس اگست ڈیرہ اسماعیل خان میں ڈسٹرکٹ ہسپتال کے احاطے میں ہونے والے خود کش بم حملے میں اٹھائیس افراد ہلاک اور ستائیس شدید زخمی ہو گئے ۔

اکیس اگست کو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے پینتالیس کلومیٹر دور واقع پاکستان آرڈیننس فیکٹری کے مرکزی دروازوں پر دو خودکش حملوں میں سٹرسٹھ افراد ہلاک اور ایک سو نو زخمی ہو گئے جبکہ ایک خودکش حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا۔

واضع رہے کہ چھ جولائی کو وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں ہونے والے ایک خودکش حملے میں انیس افراد ہلاک جبکہ چالیس سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔ اس کے علاوہ سنہ دو ہزار آٹھ کے پہلے تین ماہ میں پاکستان میں ہوئے اٹھارہ خودکش حملوں میں دو سو پچاس سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔