Friday, 22 August, 2008, 03:03 GMT 08:03 PST
ہارون رشید
گیٹ نمبر ایک، آرڈیننس فیکٹری واہ
ملک کی سب سے بڑی فوجی اسلحہ فیکٹری کے گیٹ پر جان لیوا خود کش حملے جعمرات کی دو پہر دو بجکر چالیس منٹ کے لگ بھگ ہوئے۔
جیسے کہ معمول ہے ایسے حملوں کے بعد سکیورٹی اداروں کو متاثرہ علاقے میں سکیورٹی بڑھانے کا خیال آتا ہے۔ ایسا ہی کچھ واہ میں بھی ہوا۔ ایک نہیں دو دو خود کش حملہ آور اس انتہائی محفوظ سمجھے جانے والے فوجی علاقے میں با آسانی داخل ہوئے اور اپنے اہداف کو نشانہ بھی بنانے میں کامیاب رہے۔
لیکن جب بات میڈیا کی آئی تو سخت سیکورٹی کی وجہ سے بڑی تعداد میں صحافیوں کو جائے وقوع تک جانے کی اجازت نہیں دی گئی، انہیں ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے بجا لانے سے روکا گیا۔ جو ابتداء میں اطلاع ملتے ہی پہنچے وہ پہنچ گئے لیکن بعد میں آنے والے صحافیوں کو روکا گیا۔
ہمارا گروپ بھی ان صحافیوں میں شامل تھا جو ابتدائی رپورٹیں فائل کر کے وہاں کے لیئے روانہ ہوا۔ واہ پہنچے تو شہر کے داخلی راستے پر روک دیا گیا۔ پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ اعلی حکام نے کسی صحافی کو اندر جانے سے روکنے کے لیئے کہا ہے۔
اسلام آباد سے آئے دفتر کی گاڑی وہیں چھوڑ کر عام بس میں اندر جانے کی کوشش کی تو ایک پولیس والا بس میں بھی چڑھ آیا اور مسافروں سے دریافت کرنے لگا کہ ان میں سے صحافی کون ہیں۔ ایک ایک کر کے سب کو نیچے اتار دیا۔ اترتے وقت بعض ناراض صحافیوں نے پولیس والوں سے کہا کہ خودکش حملہ آور تو آپ سے باآسانی اندر چلا گیا لیکن صحافی نہیں جانے چاہیے۔
اس موقع پر سوزوکی ڈبے کا یہ نوجوان ڈرائیور کی امید کی کرن بن کر سامنے آیا۔ مناسب معاوضے کے تقاضے کی وجہ سے جلد ہی حامی بھر لی۔ اس ’شیر کے بچے‘ ڈرائیور نے تین سو روپے کی خاطر ہمیں اپنی گاڑی میں بٹھایا اور ہم سے ہمارے صحافتی کارڈز اور ریکارڈنگ کا سامان سب کچھ لے کر گاڑی کے خفیہ خانوں میں چھپا دیا۔
وہ ہمیں واہ شہر کے چھاؤنی کے علاقے میں داخل ہونے والے ایک اور بڑے دروازے کی جانب لایا تاہم وہاں بھی اندر جانے کی اجازت نہیں ملی۔ ڈرائیور نے واپس جی ٹی روڈ پر گاڑی ڈالی اور ایک دوسری سمت روانہ ہوگیا۔ پھر کئی ٹیڑی میڑی تنگ گلیوں میں سے گزار کر وہ ہمیں آڑڈیننس فیکٹری کےگیٹ کے پاس لے آیا۔
لیکن باوجود پر زور اصرار کے اس نے ہمیں وہاں نہیں اتارا بلکہ کئی مارکیٹوں کے چکر دے کر ایک بس سٹاپ کے پاس اتار دیا۔ وہیں پر احساس ہوا کہ جب میں اِدھر اُدھر سے کر کرا کہ اس انتہائی محفوظ علاقے میں داخل ہوسکتا ہوں تو قدرے پرامن حالات میں کوئی دہشتگرد کیوں داخل نہیں ہوسکتا۔
گیٹ نمبر ایک کے سامنے پہلے سے لاتعداد صحافی موجود تھے۔گیٹ کے سامنے ٹوٹی پھوٹی چند سائیکلیں، بکھرے جوتے، گوشت کے لوتھڑے اور زمین پر خون کے دھبے ہی ایسے شواہد تھے جو کسی بڑی تباہی کا بتا رہے تھے۔ اس پر کوے بھی بڑی تعداد میں وہاں شاید انسانی گوشت کی لالچ میں منڈلا رہے تھے۔
تحقیقاتی اداروں کے شرٹ پتلون میں ملبوث تین چار اہلکار بھی اس مقام سے شواہد اکھٹے کرنے میں مصروف تھے۔ اس گیٹ سے کوئی سو گز کے فاصلے پر مسجد عثمان تھی جہاں فوجی اہلکار کسی کھوج میں لگے تھے۔ تھوڑی دیگر بعد وہ وہاں سے ایک اور خودکش جیکٹ اور کچھ اور سامنا ایک گاڑی میں ڈال کر وہاں سے روانہ ہوگئے۔ یہ واضع نہیں کہ آیا یہ تیسری جیکٹ اس خودکش حملہ آور کی تھی جس نے آخری وقت پر ذہن تبدیل کر لیا۔
اسلم مارکیٹ دھماکے کے فورا بعد مکمل طور پر بند کر دی گئی۔
وہاں سے نکل کر پی او ایف ہسپتال پہنچے تو وہاں باہر سڑک پر اور اندر ایک دنیا اکٹھی تھی۔ اکثر ہلاک و زخمی افراد کے لواحقین تھے جو روتے روتے اندر جا رہے تھے تو کوئی اور کے سہارے باہر آ رہے تھے۔ ایک عورت بین کرتے جا رہی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ اس کی بیٹی کے شوہر بتیس سالہ شہزاد کی ہلاکت پر اس کے دو بچوں کا کیا بنے گا۔
ہسپتال میں داخلے کی اجازت صرف تلاشی کے بعد دی جا رہی تھی۔ مین گیٹ پر خون کے عطیوں کے لیے اپیلیں بھی آویزاں تھیں۔ وہاں سپکر پر ایک اعلی فوجی اہلکار ان لوگوں سے جو اپنے زخمیوں سے مل چکے واپس جانے کی درخواست کر رہا تھا تاکہ مریضوں کی مناسب دیکھ بھال ہوسکے۔
معلومات کے ڈیسک پر موجود ڈاکٹر محمد مسعود نے بتایا کہ اٹھاون لاشیں جبکہ سڑسٹھ زخمی اس ہسپتال لائے گئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں سے چار لاشوں کی شناخت نہیں ہو پائی تھی جن میں شاید وہ خودکش حملہ آوروں کی لاشیں بھی ہوں۔
بھاگم بھاگ واپس اسلام آباد یہ سوچتے لوٹے کہ آخر ان جان لیوا حملوں سے ملک اور صحافیوں کی جان کب چھوٹے گی۔ مشرف چلے گئے لیکن خودکش حملے نہیں۔