http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 22 August, 2008, 09:19 GMT 14:19 PST

شہزاد ملک
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

ایک شخص گرفتار: مشیرداخلہ

وفاقی حکومت کے مشیر داخلہ رحمن ملک نے جمعہ کو قومی اسمبلی کو بتایا کہ جمعرات کے روز واہ آرڈیننس فیکٹری کے باہر ہونے والے خُود کش حملے کے بعد ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے جس کے قبضہ سے خُودکش حملے میں استعمال ہونی والی جیکٹ اور دستی بم بھی برآمد ہوئے ہیں۔

دریں اثناء وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد سڑسٹھ بتائی ہے جبکہ اس سے پہلے ایک پریس ریلیز میں بتایا گیا تھا کہ ستر لوگ ہلاک ہوئے۔

واہ حملے ردِ عمل ہیں: مولوی عمر
وڈیو: خود کش حملوں کے بعد
واہ فیکٹری دھماکوں کی تصاویر
آپ کی رائے: خودکش دھماکے
واہ فیکٹری میں کیا کچھ بنتا ہے؟

رحمن ملک نےاسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تفتیش کے دوران ملزم نے بتایا کہ اس کے تین ساتھیوں نےجمعرات کے روز خود کو واہ آرڈیننس کے باہر دھماکہ سے اُڑا دیا ۔ انہوں نے کہا کہ ملزم نے کچھ اہم انکشافات بھی کیے ہیں جس کے بارے میں ایوان کو آگاہ کیا جائے گا۔
ہلاک ہونے والے ایک شخص کا جنازہ

وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت باجوڑ اور دیگر علاقوں میں ہونے والے خُود کش حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے لیے یکساں پالیسی بنا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت گزشتہ روز واہ آرڈیننس فیکٹری کے باہر ہونے والے خود کش حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کے ورثاء کے لیے تین لاکھ اور زخمی ہونے والوں کے لیے ایک لاکھ کا اعلان کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان خودکش حملوں میں سٹرسٹھ افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔ اس سے پہلے ایک پریس ریلیز میں کہا گیا تھا کہ ان خودکش حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ستر بتائی گئی ہے۔ اس سے قبل رحمان ملک نے ان دھماکوں میں زخمی ہونے والوں کی عیادت کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے پاس دو ہی راستے ہیں یا تو وہ ملک کو طالبان کے حوالے کردیں یا اُن کا مقابلہ کریں اور حکومت اُن کا مقابلہ کرے گی۔