Friday, 22 August, 2008, 11:28 GMT 16:28 PST
شہزاد ملک
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
حکومتی بینچوں سے تعلق رکھنے والے ارکان قومی اسمبلی نے مطالبہ کیا ہے کہ ملک کی مجموعی امن وامان کی صورتحال کے بارے میں ارکان کو بند کمرے میں بریفنگ دی جائے۔
داخلہ امور کے بارے میں وزیر اعظم کے مشیر رحمان ملک نے کہا کہ حکومت ایوان کو ملک کی مجموعی امن وامان کی صورتحال کے بارے میں آگاہ کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے سپیکر سے درخواست کی کہ اس معاملے کو جلد از جلد ایوان میں لایا جائے۔
جمعہ کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے اخونزادہ چٹان نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں شدت
پسندوں کے خلاف جو کارروائی ہو رہی ہے اُس کے بارے میں بیوروکریسی نے فاٹا کے ارکان پارلیمنٹ کو جو بریفنگ دی وہ ساری جھوٹ کا
پلندہ ہے جبکہ وہاں علاقے میں حالات اس سے بالکل مختلف ہیں۔
|
|
پاکستان مسلم لیگ نون سےتعلق رکھنے والے رکن اسمبلی خرم دستگیر خان نے کہا کہ انٹیلجنس ایجنسیوں سے پولیٹیکل سیل کا خاتمہ ہونا چاہیے اور اُن کی توجہ شدت پسندوں کی نشاندہی کی جانب مرکوز کروانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ انٹیلیجنس ایجنسیوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی بنائی جائے جس سے اُن کی کارکردگی میں بہتری آئے گی۔
انہوں نے حکومت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ قبائلی علاقوں میں پہلے امن معاہدے اور پھر اُن کے خلاف کارروائی کی وجہ سے اُن علاقوں میں ایک خلاء پیدا ہوگیا جس کے بعد اس خلاء کو طالبان نے پُر کیا۔ خرم دستگیر نے کہا کہ طالبان میں مذہبی شدت پسند اور جرائم پیشہ عناصر بھی شامل ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی جسٹس ریٹائرڈ فخرالنساء نے کہا کہ قبائلی علاقوں کی صورتحال کے بارے میں ایوان کی ایک
کمیٹی بنائی جائے جو ان علاقوں کا دورہ کر کے وہاں کے حالات معلوم کرے۔
|
|
حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی امیر مقام نے کہا کہ حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ نیٹو فورسز کے طیاروں کی طرف سے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پروازیں اور معصوم افراد کی ہلاکت پر نیٹو فورسز سے احتجاج کرے۔
انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں سیکورٹی فورسز کے طرف سےشروع کیے گئے آپریشن کی وجہ سے وہاں سے لاکھوں افراد نقل مکانی کرگئے ہیں اور ان افراد کی دیکھ بھال کرنا حکومت کا فرض ہے۔