Thursday, 21 August, 2008, 14:37 GMT 19:37 PST
عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردولااٹ کام، پشاور
پاکستان کے سابق صدر جنرل(ریٹائرڈ) پرویز مشرف کومستعفی ہوئے تین دن ہو چکے ہیں مگر ان تین دنوں کے دوران ہر روز مبینہ دہشت گردی کا ایک واقعہ رونما ہوا ہے۔
ان واقعات میں منگل کو صوبہ سرحد کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک ہسپتال پر مبینہ خودکش حملوں، بدھ کو قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں سرحد پار سے مبینہ طور پر داغے گئے میزائل حملے اور جمعرات کو دارالحکومت اسلام آباد سے تقریباً پینتیس کلومیٹر دور واہ آرڈیننس فیکٹری کے گیٹ کے سامنے ہونے والے مبینہ خوکش حملے شامل ہیں۔
جن دنوں میں جنرل (یٹائرڈ) پرویز مشرف بر سرِ اقتدار تھے تواس وقت روشن خیال سیاسی جماعتوں، حکمران پیپلز پارٹی اور قوم پرست عوامی نینشل پارٹیوں سے لے کر مذہبی سیاسی جماعتیں اور سول سو سائٹی کی زیادہ تر تنظیمیں ملک میں ہونے والے دہشت گردی کے ہر واقعے کا ذمہ دار صرف ان کی ہی ذات کو ٹھہراتے تھے۔
یہی وجہ ہے کہ ان کے استعفی کی خبر سنتے ہی ملک کے تقریباً ہر کونے میں خوشیاں منائی گئیں، بھنگڑے ڈالے گئے اورمٹھائیاں بانٹی گئیں۔ تحریک طالبان نے بھی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ان کےاستعفی کا خیر مقدم کیا۔
سبھی کا یہی خیال تھا کہ جنرل( ریٹائرڈ) پرویز مشرف کے جانے کے بعد ملک میں معاشی خوشحالی، سیاسی استحکام، پارلیمنٹ کی بالادستی اور ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی واراداتیں میں کمی آجائے گی۔ مگر چوبیس گھنٹے ہی نہیں گزرے تھے کہ صوبہ سرحد کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک ہسپتال پر ہونے والے مبینہ خود کش حملے نے لوگوں کی ان توقعات پر پانی پھیر دیا۔
اس کے اگلے روز ہی قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں مقامی لوگوں کے مطابق صدر مقام وانا میں ایک گھر کو سرحد پار سے مبینہ میزائل
حملوں کا نشانہ بنایا گیا جس میں متعدد افراد ہلاک ہوگئے۔ حکومت نے صرف اتنا کہا تھا کہ ایک گھر میں دھماکہ ہوا ہے جس کے بارے
میں تفصیلات اکھٹی کی جا رہی ہیں۔
![]() |
|
| زخمیوں کے لیے لوگوں سے خون دینے کی اپیل |
ابھی اس واقعے کو چوبیس گھنٹے بھی نہیں گزرے تھے کہ جمعرات کی دوپہر کو دارالحکومت اسلام آباد سےتقریباً پینتیس کلومیٹر دور واہ آرڈیننس فیکٹری کو خودکش حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔
ان تمام واقعات سے بظاہر یہ معلوم ہو رہا ہے کہ ملک میں مبینہ دہشت گردی کا تعلق فردِ واحد کے ساتھ جُڑا ہوا نہیں تھا بلکہ اس کی جڑیں دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی حکومت کی پالیسی میں تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ البتہ جنرل(ریٹائرڈ) پرویزمشرف کو اس حد تک ذمہ دار ٹھہرایا جاسکتا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں اتنے آگے چلےگئے کہ موجودہ حکومت اگر اس پالیسی اور فوجی حکمت عملی کو ایک معتدل سطح پر لانا چاہے بھی تو اسے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
باجوڑ اور سوات میں طالبان کے خلاف جاری فوجی کاروائیوں سے یہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ موجودہ سیاسی حکومت اور پاکستانی فوج دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کو ناراض نہیں کرنا چاہتی اسی لیے انہوں نےسابق صدر پرویز مشرف کی پالیسیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں ہونے والے مبینہ خود کش حملے کے بعد تحریک طالبان نے اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’پرویز مشرف
تو چلے گئے مگر ان کی پالیسیاں برقرار ہیں اور باجوڑ اور سوات میں ان کے خلاف آپریشن جاری ہے۔‘
![]() |
|
| واہ فیکٹری کا گیٹ |
اجلاس کے بعد افغانستان میں اتحادی افواج نے جو بیان جاری کیا تھا اس میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے شرکت کا ذکر خصوصی طور پر کیا گیا تھا۔ بیان میں کہا گیا تھا کہ ’اس اجلاس کی اہمیت اس لحاظ سے بھی زیادہ تھی کہ اس میں پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز اشفاق کیانی نے جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کے مستعفی ہونے کے بعد شرکت کی اور جو پاکستان کی جانب سے خطے میں موجود سکیورٹی کےمعاملات پر خصوصی توجہ مرکوز رکھنے کے حوالے سے ایک واضح اشارہ ہے‘۔