http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 21 August, 2008, 07:37 GMT 12:37 PST

دلاور خان وزیر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ڈیرہ اسماعیل خان

ڈی آئی خان: حالات بدستور کشیدہ

صوبہ سرحد کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں منگل کو ایک خودکش بم دھماکے کے بعد جمعرات کو تیسرے روز بھی حالت بدستور کشیدہ ہیں۔ کاروباری مراکز، سکول، بینک اور تمام سرکاری اور غیر سرکاری دفاتر بھی بند رہے۔

جمعرات کی صبح سے ڈیرہ شہر کے مختلف بازاروں میں وقفے وقفے سے مسلح نوجوان فائرنگ کرتے رہے ہیں۔ لوگ خوف کی وجہ سے گھروں میں محصور ہوگئے ہیں اور شیعہ علماء کونسل نے ایک احتجاجی مظاہرہ بھی کیا ہے۔

ڈیرہ شہر کے نواحی علاقوں میں بھی حالات بدستور کشیدہ ہیں۔ مشتعل نوجوانوں نے جلوس کی صورت میں سرکلرروڈ اور شہر میں اسلحہ ہاتھوں میں لیے ہوئے کئی مقامات پر ہوائی فائرنگ کی ہے جس کی وجہ سے شہر میں مزید خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور لوگ گھروں میں محصور ہیں۔

دوسری جانب قل خوانی کے بعد شیعہ علماء کونسل کے اعلان پر ہزاروں لوگوں نے احتجاجی مظاہرہ میں حصہ لیا اور مظاہرین دھرنے کے لیے کوٹلی امام کے سامنے پہنچ گئے ہیں۔ مولانا اظہر ندیم کے مطابق احتجاجی دھرنا اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ان کے مطالبات منظور نہ ہو۔

اہل تشیع نے کوٹلی امام کے سامنے احتجاجی کیمپ بھی لگایا اور ساجد نقوی بھی ڈیرہ اسماعیل خان پہنچ گئے ہیں۔ اہل تشیع کے ایک کارکن نے بی بی سی کو بتایا کہ احتجاجی مظاہرے میں شرکت کے لیے پنجاب کے ضلع بھکر اور لیہ کے لوگ بھی پہنچ گئے ہیں۔

یاد رہے کہ دو دن پہلے ڈیرہ اسماعیل ڈسٹرکٹ ہسپتال میں اس وقت ایک خودکش حملہ ہوا تھا جب ہسپتال کے سامنے نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کر کے اہل تشیع سے تعلق رکھنے والے باسط زیدی کو ہلاک کیا تھا۔ اہل تشیع کے لوگ شعبۂ حادثادت کے سامنے جمع ہوگئے تھے کہ اسی دوران خودکش دھماکہ ہوگیا۔