http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 20 August, 2008, 08:41 GMT 13:41 PST

دلاور خان وزیر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام ڈیرہ اسماعیل خان

ڈی آئی خان میں حالت کشیدہ

صوبہ سرحد کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں گزشتہ روز خودکش بم دھماکے کے بعد بدھ کو شہر میں حالت بدستور کشیدہ ہیں۔

بازار مکمل طور پر بند ہے سڑکیں سنسان ہیں جگہ جگہ پولیس اور ایف سی کے اہلکار چوکس کھڑے ہیں۔ شیعہ علماء کونسل نے تین دن کے لیے سوگ کا اعلان کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ خودکش دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بتیس تک پہنچ گئی ہیں۔

ڈیرہ میں خود کش حملہ

ڈی ایس پی ادریس نے بی بی سی کو بتایا کہ شہر میں حالت انتہائی کشیدہ ہیں اور حالت پر قابو پانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ پولیس اور ایف سی کی بھاری نفری موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شہر میں کرفیوں نافذ کرنے کا اعلان نہیں ہوا ہے۔ لیکن بازار غیر اعلانیہ طور پر بند ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اور ایف سی کے اہلکار شہر کے مختلف علاقوں میں گشت کر رہے ہیں اور پولیس ہر قسم کے واقعات سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد بتیس ہوگئی ہیں۔ جس میں تین پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ اس واقعہ میں ایسے لوگ بھی ہلاک ہوگئے ہیں، جو اپنے مریضوں کے ساتھ دور دور کے علاقے سے ائے تھے۔ جس میں ضلع ٹانک اورضلع لکی کے علاقے پیزو کے لوگ شامل ہیں۔ ڈی ایس پی ادریس کا کہنا تھا کہ شہر میں دفعہ ایک سو چولیس نافذ ہے اور موٹر سائیکل پر دو سواریوں کے بیٹھنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز ڈیرہ اسماعیل خان میں ڈسٹرک ہسپتال کے اندر شبعہ حادثات کے سامنے ایک خودکش حملہ ہوا تھا جس میں تین پولیس اہلکار سمیت پچیس افراد موقع ہی پر ہلاک ہوگئے تھے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ دھماکے سے پہلے ہسپتال کے سامنے نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے اہل تشیع سے تعلق رکھنے والے باسط شاہ زیدی کو ہلاک کردیا تھا۔ ہسپتال کے شعبہ حادثات میں جہاں باسط زیدی کی لاش رکھی گئی تھی بہت سے اہل تشیع حضرات جمع ہوگئے تھے کہ اسی دوران دھماکہ ہوگیا۔

خودکش بم دھماکے کی ذمہ داری تحریک طالبان کے ترجمان مولوی عمر نے قبول کی ہے ان کا کہنا تھا کہ مشرف کے جانے کے بعد حکومت نے پالیسی تبدیل نہیں کی اس لیے وہ کارروائی کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔