http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 18 August, 2008, 13:00 GMT 18:00 PST

رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

مشرف کا استعفیٰ طالبان خیرمقدم

تحریک طالبان پاکستان نے صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی طرف سے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سابق صدر پر قبائلی علاقوں میں معصوم لوگوں کو قتل عام کرنے پر مقدمہ قائم کیا جائے اور قبائلی علاقوں میں رائج ان کی تمام پالیسیوں کو فوری طورپر ختم کردیا جائے جبکہ طالبان ملک میں اپنی تمام تر کاروائیوں بند کرنے کےلئے تیار ہیں۔

’ملک اور قوم کی خاطر مستعفی ہو رہا ہوں‘

پیر کو صدر مملکت پرویز مشرف کا قوم سے خطاب میں استعفے کے اعلان کے بعد بی بی سی سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے طالبان ترجمان مولوی عمر نے کہا کہ ’حکومت کو صرف استعفی دینے پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس کو اپنی کئے کی سزا بھی دینی چاہیے تاکہ آئندہ کےلئے کوئی حکمران معصوم لوگوں پر ظلم نہ کرسکے۔‘

انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت قبائلی علاقوں میں رائج پرویز مشرف دور کی تمام تر پالیسیوں کو فوری طورپر ختم کرنے کا اعلان کرے تاکہ قبائلی عوام سکھ کا سانس لے سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے فاٹا میں پرویز مشرف دور کی تمام پالیسیاں ختم کیں تو اس کے بدلے میں طالبان بھی ملک میں اپنی جاری تمام تر کارروائیاں بند کردینگے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ صدر مشرف نے سات سال تک قبائلی علاقوں میں آپریشن کئے ، معصوم لوگوں پر بمباریاں کیں ، ہزاروں بے گناہ لوگوں کو قتل کیا گیا اور ان کو دربدر ٹھوکریاں کھانے پر مجبور کیا گیا۔

مولوی عمر کے بقول ’ صدر مشرف غیروں اور امریکہ کےلئے کام کرتا تھا اور انہی لوگوں کے کہنے پر قبائلی عوام کا قتل عام کرتا رہا جبکہ اس نے پاکستان کےلئے کچھ نہیں کیا بلکہ الٹا ملک کو بدنام اور ناکام بنایا۔‘

انہوں نے کہا کہ آج تمام ’ مجاہدین ’ مشرف کے استعفے پر حالت جنگ میں بھی خوش ہیں اور انہیں اس سلسلے میں کئی مبارک باد کے فون بھی ائے ہیں۔