Monday, 18 August, 2008, 12:45 GMT 17:45 PST
ہارون رشید اور اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کے انتہائی شدید سیاسی دباؤ کے نتیجے میں اپنے عہدے سے پیر کی دوپہر مستعفی ہونے کے بعد چیئرمین سینیٹ محمد میاں سومرو نے قائم مقام صدر کی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔
پرویز مشرف کے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد شام کو ایوان صدر میں الوداعی تقریب منعقد ہوئی۔ اس تقریب میں صدر کوگارڈ آف آنر پیش کیا گیا جس میں تینوں مسلح افواج کے سربراہان شریک ہوئے۔
اس سے قبل پرویز مشرف نے پیر کی دوپہر کو قوم سے خطاب کرتے ہوئے مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔ یہ اعلان انہوں نے ایوان صدر سے براہ راست خطاب میں کیا اور کہا کہ انہوں نےیہ فیصلہ ملک وقوم کی خاطر کیا تھا۔
ایک گھنٹے کے خطاب میں انہوں نے اپنے دور حکومت کی تمام پالیسیوں اور فیصلوں کا بھرپور دفاع کیا اور حکمران اتحاد کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔
صدر نے کہا کہ انہوں نے اپنے دورِ حکومت میں معاشی ترقی کے بارے میں ایک تفصیلی دستاویز تیار کی ہے جو ذرائع ابلاغ کو جاری کر دی جائے گی۔ ’پاکستان کے سیاسی دنگل میں میری کوشش مفاہمت کی رہی لیکن بدقسمتی سے میری تمام اپیلیں ناکام ہوگئیں۔‘
صدر مشرف نے کہا کہ انہیں اللہ پر بھروسہ ہے اور کوئی الزام ان پر ثابت نہیں ہوسکتا۔ ’یہ وقت بہادری دکھانے کا نہیں ہے۔۔ مواخذا جیتوں یا ہاروں لیکن شکست قوم کی ہوگی اور ملکی وقار پر ٹھیس آئے گی۔‘
صدر جنرل پرویز مشرف نے بارہ اکتوبر سن انیس ننانوے کو بغیر کسی خون خرابے کے فوج کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کیا اور اس وقت کے وزیراعظم میاں نواز شریف کو حراست میں لے لیا تھا۔
پیر کو ان کے مستعفی ہونے کے ساتھ ہی ان کے آٹھ سال دس ماہ اور چھ روزہ اقتدار کا خاتمہ ہوگیا۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق صدر مشرف فی الحال پاکستان میں ہی رہیں گے۔
صدر پرویز مشرف اپنے پیشرو فوجی صدر ضیاءالحق کے طویل اقتدار یعنی گیارہ سال حکمرانی کا ریکارڈ توڑ نہیں سکے۔ تاہم دونوں فوجی صدور کے لیے اگست کا مہینہ بھاری پڑا۔
صدر کی تقریر براہ راست نشر کرنے پر پی ٹی وی انتظامیہ نے اعتراض کیا کہ وہ پہلے تقریر ریکارڈ کروائیں جس پر ایوان صدر نے اعتراض کیا اور نجی ٹی وی چینلوں کو براہ راست تقریر کے لیے بلا لیا۔ جس کے بعد پی ٹی وی نے بھی براہ راست تقریر نشر کرنے کا فیصلہ کیا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق ریکارڈ شدہ تقریر نشر کرنے کا فیصلہ پی ٹی وی کے نئے ٹاپ مینیجر نے کیا۔