Monday, 18 August, 2008, 11:12 GMT 16:12 PST
وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
صدر پرویز مشرف کی آخری تقریر میں زیادہ تر زور اس بات پر رہا کہ ان کے دور میں معاشی ترقی کے لیے کیا کوششیں ہوئیں۔لیکن بعض
اہم موضوعات ان کے خطاب سے یکسر غائب تھے۔مثلاً گزشتہ برس نو مارچ کے بعد عدلیہ کے سلسلے میں انہیں انتہائی اقدامات کیوں کرنے
پڑے اور نومبر میں ایمرجنسی لگانے کا جواز کیا تھا۔اس بارے میں انکی تقریر میں ایک لفظ نہیں تھا۔حالانکہ یہی دو اقدامات تھے جو
بالآخر ان کے زوال کا سبب بنے۔
اسی طرح مشرف حکومت نو برس تک یہ کریڈٹ لیتی رہی کہ وہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں ایک بنیادی کردار ادا کرتی رہی ہے۔لیکن نہ تو صدر مشرف نے اس بنیادی کردار کا کوئی حوالہ دیا اور نہ ہی اس کردار کے نتیجے میں اندرونِ ملک بالخصوص قبائلی علاقوں میں طالبان تحریک کے فروغ یا دہشت گردی کی مسلسل لہر کی روک تھام کے لیے اپنی کامیابی یا ناکامی کے بارے میں بات کی۔بس اتنا کہا کہ نائن الیون کے بعد دہشت گردی نے ایک نیا رخ اختیار کرلیا ہے جسے روکنے کے لیے لوگوں کو عسکری اداروں کا ساتھ دینا چاہیے۔
لال مسجد کی کارروائی پر مشرف حکومت پر آج تک انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔اور اس کارروائی کے بعد دہشت گردی کی لہر مزید پھیلی۔لیکن ایک
گھنٹے کے خطاب میں اس بارے میں کوئی حوالہ نہیں ملتا۔
|
|
جب پرویز مشرف اقتدار میں آئے تو انہوں نے نعرہ لگایا تھا کہ وہ صوبائی ہم آہنگی اور فیڈریشن کے استحکام کے لیے ترجیحاتی کوششیں کریں گے۔تاہم وفاق کا ایک یونٹ بلوچستان ان کے پورے دور میں بدامنی کا شکار رہا اور اکبر بگٹی کی ہلاکت کا بھی واقعہ ہوا۔
سینکڑوں لوگ لاپتہ ہوگئے اور ہزاروں نے نقل مکانی کی۔تاہم صدر مشرف نے اپنی الوداعی تقریر میں بلوچستان کے تعلق سے صرف یہ جملہ
کہا کہ ہم نے کراچی سے گوادر تک کوسٹل ہائی وے بنوائی۔
![]() |
|
| ایٹمی سائنسداں ڈاکٹر قدیر کے قضیے کا بھی کوئی تذکرہ نہیں تھا |
صدر مشرف اپنے پورے دور میں مسلسل یہ کریڈٹ لیتے رہے کہ پاک بھارت تعلقات ان کے دور میں جتنے بہتر ہوئے پچھلے کسی دور میں ایسی مثال نہیں ملتی۔تاہم انہوں نے اپنی اس کامیابی کا تذکرہ کرنے سے بھی گریز کیا اور بس یہ جملہ کہا کہ دوہزار ایک میں انہوں نے وہ بحران کامیابی سے ٹالا جو سرحدوں پر بھارتی فوج کے دس ماہ کے اجتماع کے سبب پیدا ہوا تھا۔
انہوں نے بلدیاتی نظام کے تجربے کا تو کریڈٹ لیا اور یہ بھی کہا کہ جو بھی اس نظام کو نقصان پہنچائے گا وہ دراصل ملک کو نقصان پہنچائے گا تاہم انہوں نے شوکت عزیز سمیت اپنے کسی بھی وزیرِاعظم کو کوئی کریڈٹ دینے سے گریز کیا اور نہ ہی صدارتی ریفرینڈم یا دو ہزار دو کے انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والے متنازعہ جمہوری ڈھانچے کا دفاع کرنے کی کوشش کی۔
ماضیِ قریب کی ہر تقریر یا پریس کانفرنس کے برعکس یہ حوالہ بھی نہیں دیا کہ وہ ایک ایسے صدر ہیں جنہیں سابقہ پارلیمنٹ نے پانچ برس کی دوسری مدت کے لیے چنا تھا۔
کرپشن میں کمی کا انہوں نے سرسری تذکرہ کیا لیکن این آر او کے حق میں یا خلاف ایک بات بھی نہیں کی۔بلکہ وہ نئے حکمرانوں کو یہ دعا دے کر رخصت ہوئے کہ وہ ملک کی ڈوبتی کشتی کو بچا سکیں۔