Saturday, 16 August, 2008, 16:41 GMT 21:41 PST
پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ صدر مشرف کو اگلے دو تین دن تک مستعفی ہو جانا چاہیے یا پھر انہیں مواخذے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ صدر مشرف کے مستعفی ہوجانے کی صورت میں مواخذے کی تحریک پیش نہیں کی جائے گی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ صدر مشرف کے پاس اب وقت بہت کم ہے۔
مستعفی ہوجانے کی صورت میں صدر کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں شاہ محمود قریشی نے بھی وہی جواب دیا کہ اس کا فیصلہ حکومت میں شامل جماعتوں کے سربراہان کریں گے۔
اس سوال کے جواب میں کہ پرویز مشرف کے صدر کے عہدے سے ہٹ جانے کے بعد کس کو صدر بنایا جائے گا شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اس کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اگر ایسی کسی خواہش کا اظہار میاں نواز شریف کی طرف سے کیا گیا تو اس کا احترام کیا جائے گا۔
صدر مشرف کے مواخذے کے لیے تیار کی گئی چارج شیٹ میں حکام کے مطابق بہت بغاوت سمیت بہت سے سنگین الزامات شامل کیئے گئے ہیں۔
اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار مارک ڈیمیٹ کے مطابق صوبائی اسمبلیوں میں صدر مشرف کے خلاف پیش کی جانے والی قرار دادوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی حمایت مکمل طور پر ختم ہو گئی ہے۔
ہمارے نامہ نگار کے مطابق صدر مشرف کے پاس باعزت طور پر ایوان صدر چھوڑنے کا واحد راستہ پارلیمنٹ میں مواخذے کی تحریک پیش ہونے سے قبل استعفی ہی رہ گیا ہے۔
صدر مشرف نے انیس سو ننانوے میں ایک فوجی بغاوت میں اس وقت کے وزیر اعظم میاں نواز کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔ انہوں نے سن دو ہزار چار میں وردی اتارنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن انہوں نے یہ وعدہ پورا نہیں کیا۔