Friday, 15 August, 2008, 08:41 GMT 13:41 PST
عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں حکام کا کہنا ہے کہ نامعلوم افراد نےجمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب کو لڑکیوں کے ایک سکول اور سی ڈی فلمیں فروخت کرنے والی ایک مارکیٹ کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا ہے۔
مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سوات کے صدر مقام مینگورہ میں گرین چوک کے قریب واقع ایک مارکیٹ میں سی ڈی فلمیں فروخت کرنے والی بعض دکانوں کو دھماکہ خیز مواد سے اڑایا گیا ہے جس کے نتیجے میں تیس کے قریب دکانوں کو نقصان پہنچا ہے۔ ان کے بقول دھماکے میں سی ڈیز کی تقریباً پانچ دکانیں مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہیں۔
دوسری طرف حکام کے مطابق سوات کے علاقے چہار باغ میں بھی نامعلوم افراد نے پانچ کمروں پر مشتمل لڑکیوں کے ایک سکول کو بم سے مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے جبکہ چہار باغ ہی میں تحصیلدار کے ایک خالی دفتر کو بھی دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا گیا ہے۔
سوات میں ایک طویل عرصے کے بعد سی ڈی فلمیں فروخت کرنے والی دکانوں کو نشانہ بنایاگیا جبکہ لڑکیوں کے سکولوں کو نذرِ آتش کرنا ایک معمول بن گیا ہے۔
حکومتی اعداد شمار کے مطابق گزشتہ کچھ عرصے کے دوران مبینہ طالبان نے اسی سے زائد سکولوں کو تباہ کیا ہے جس کی وجہ سے ہزاروں بچے تعلیم کے حصول سے محروم ہوگئے ہیں۔
تازہ واقعات کی ذمہ داری کسی نے بھی قبول نہیں کی ہے البتہ اس سے قبل اس قسم کی واداتوں کی ذمہ داری مقامی طالبان نے قبول کر لی تھی۔
سوات میں جاری آپریشن کے دوران گزشتہ رات تحصیل کبل، شاہ ڈیرئی اور آس پاس کے علاقوں کو بھاری توپخانے سے نشانہ بنایا گیا تاہم
اس میں کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔