Sunday, 10 August, 2008, 08:08 GMT 13:08 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی کے مرکزی مقام خار کا طالبان نے محاصرہ کرنےکا دعوی کیا ہے جبکہ فوج کے حکام نے اس دعوے کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ چار دنوں کی لڑائی میں سو طالبان اور تیرہ سیکورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ایک ترجمان میجر مراد خان نے بی بی سی کو بتایا کہ لوئی سم اور اطراف کے علاقوں میں ایک بار پھر مشتبہ طالبان کے ٹھکانوں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا گیا ہے اور آخری اطلاعات آنے تک یہ کارروائیاں جاری تھیں۔
ترجمان کے مطابق ان اطلاعات میں کوئی حقیقیت نہیں کہ طالبان نے خار اور اطراف کے علاقوں کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔
طالبان نے درجنوں سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت اور کئی کے یرغمال بنائے جانے کے دعوے کئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق فضائیہ کے جیٹ طیارے اور فوج کے گن شپ ہیلی کاپٹر شدت پسندوں کے مبینہ محاصرہ کو ختم کرنے کےلئے لوئی سم اور اطراف کے علاقوں پر شدید بمباری کا کر رہے تھے۔
باجوڑ سے ملنے والی اطلاعات میں مقامی حکام نے بی بی سی کو تصدیق کی کہ طالبان نے صدر مقام خار کے نواحی علاقوں حاجی بوانگ، جار، ملا کلی ، پلانگ، صدیق آباد پھاٹک اور مامین پر قبضہ کرنے کے بعد ان علاقوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عسکریت پسند اب خار بازار سے چند سو میٹر کے فاصلے پر ہیں اور وہ تیزی سے پیش قدمی کررہے ہیں۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ طالبان نے خار کے اطراف میں زیادہ تر علاقوں کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد سڑک کے کنارے مورچے اور چیک پوسٹیں قائم کردی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج صبح سے طالبان سڑکوں پر موجود ہیں اور ہر آنے جانے والی گاڑیوں کی تلاشیاں لے رہے ہیں جبکہ لوگوں کے شناختی
کارڈ بھی چیک کئے جارہے ہیں۔
|
|
آخری اطلاعات آنے تک علاقے میں بمباری کا سلسلہ جاری تھا۔
دریں اثناء مقامی طالبان نے دعوی کیا ہے کہ انہوں نے باجوڑ ایجنسی کے صدر مقام خار کو چاروں اطراف سے گرے میں لے لیا ہے۔ طالبان ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے مرکزی مہمند باجوڑ شاہراہ پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا ہے اور ضلع دیر کی سرحد تک یہ سارا علاقہ ان کے قبضے میں آگیا ہے۔
تاہم انہوں نے کہا کہ طالبان نے تاحال خار پر کسی قسم کا حملہ کرنے کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ اتوار کی صبح خار کے نواحی علاقوں میں گھروں میں پناہ لئے ہوئے پندرہ سکیورٹی اہلکار کو ہلاک جبکہ پانچ کو یرغمال بنا لیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں سرکاری موقف معلوم کرنے کےلئے فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے اہلکاروں سے بار بار رابطے کی کوشش کی گئی تاہم کامیابی نہیں ہوسکی۔
ادھر باجوڑ میں جھڑپوں کی وجہ سے ہزاروں لوگوں نے بے سر وسامانی کے عالم میں خواتین اور بچوں سمیت محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی شروع کردی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ زیادہ تر لوگ دیر اور پشاور کی طرف نقل مکانی کررہے ہیں۔
یاد رہے کہ لوئی سم کے علاقے میں مقامی طالبان اور سکیورٹی فورسز کے درمیان کئی دن سے جھڑپیں جاری تھیں جس کے بعد مقامی طالبان نے سنیچر کو لوئی سم کے علاقے پر قبضہ کرنے کا دعوٰی کیا تھا۔
اس سلسلے میں جب پاکستانی فوج کے ایک ترجمان میجر مراد سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا تھا کہ ’سکیورٹی فوسز لوئی سم کا علاقہ خالی کر کے واپس صدر مقام خار پہنچ چکی ہیں‘۔