http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 09 August, 2008, 07:58 GMT 12:58 PST

اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد

اسمبلی اجلاس گیارہ اگست کو

پاکستان کے صدر پرویز مشرف نے پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی کا اجلاس گیارہ اگست پیر کی شام پانچ بجے طلب کرلیا ہے۔

حکومت کی درخواست پر طلب کردہ اس اجلاس میں امکان ہے کہ حکومتی اتحاد ایک قرار داد منظور کروائے گا جس میں صدر پرویز مشرف سے کہا جائے گا کہ وہ اپنے وعدے کے مطابق نو منتخب اسمبلیوں سے اعتماد کا ووٹ حاص کریں۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس پرویز مشرف کی صدارت کے لیے اہلیت کو جب سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا تو ان کے وکیل نے عدالت کو یقین دہانی کروائی تھی کہ صدر منتخب ہونے کے بعد نئے انتخابات کے بعد وجود میں آنے والی اسمبلیوں سے اعتماد کا ووٹ حاصل کریں گے۔

پارلیمانی امور کی وزارت کے مشیر اظہار امروہی کا کہنا ہے کہ گیارہ اگست کو طلب کردہ اجلاس میں صدر کے مواخذے کے بارے میں کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔

ان کے مطابق صدر کے مواخذے کے لیے جب حکمران اتحاد نے تحریک پیش کی تو اس کے بعد پارلیمان کا مشترکہ اجلاس طلب کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ گیارہ اگست کو شروع ہونے والا قومی اسمبلی کا اجلاس ایک ہفتے تک جاری رہ سکتا ہے۔

یاد رہے کہ حکمران اتحاد نے صدر پرویز مشرف سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اعتماد کا ووٹ حاصل کریں ورنہ ان کا مواخذا کیا جائے گا۔

حکومتی اتحاد نے یہ بھی اعلان کیا تھا کہ قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں سے ایک قرار داد منظور کروائی جائے گی جس میں صدر سے مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ اعتماد کا ووٹ حاصل کریں کیونکہ ان کا الیکٹورل کالج ان پر اعتماد نہیں کرتا۔

بعض آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر کے اعتماد کے ووٹ کا آئین میں کوئی ذکر نہیں ہے لیکن اس معاملے میں صدر پرویز مشرف نے سپریم کورٹ میں پیشگی وعدہ کر رکھا ہے اس لیے حکومت ان پر دباؤ ڈال رہی ہے۔