Thursday, 07 August, 2008, 07:05 GMT 12:05 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور
صوبہ سرحد کے شورش زدہ ضلع سوات میں سرکاری سکولوں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور تازہ واقعات میں مسلح افراد نے لڑکیوں کے کالج اور ایک مڈل سکول کو نذرآتش کیا ہے جس سے گزشتہ دو ماہ کے دوران جلائے جانے والے تعلیمی اداروں کی کل تعداد تقریباً نوے تک پہنچ گئی ہے۔
سوات سے موصولہ اطلاعات میں پولیس کے مطابق پہلا واقعہ بدھ کی رات طالبان کے ایک اہم گڑھ تحصیل مٹہ میں پیش آیا جہاں مسلح افراد نے لڑکیوں کے ایک کالج کو تیل چھڑک کر آگ لگائی۔
تھانہ مٹہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ کالج اٹھ کمروں پر مشتمل تھا جس سے تمام کمروں کو نقصان پہنچا ہے۔
تحصیل مدائن کے علاقے میں بھی پندرہ کے قریب مسلح افراد نے ایک مڈل سکول کو نذرآتش کیا ہے جس سے پولیس کے مطابق سکول کا فرنیچر اور تمام ریکارڈ تباہ ہوگیا ہے۔ ابھی تک کسی تنظیم نے ان واقعات کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
سوات میں تعلیمی اداروں پر حملوں کا سلسلہ گزشتہ دوماہ سے جاری ہے تاہم حکومت کی طرف سکولوں کی حفاظت کےلئے بظاہر کوئی انتظام نہیں کیا گیا ہے۔
دوسری طرف بدھ کی شام طالبان کے ایک اہم رہنما علی بخت خان اوران کے چند ساتھیوں کی سکیورٹی فورسز کے حملے میں ہلاکت کے واقعہ کے بعد تحصیل کبل میں حالات بدستور کشیدہ بتائے جاتے ہیں۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کبل میں غیر اعلانیہ طورپر کرفیو نافذ ہے جبکہ سکیورٹی فورسز نے چیک پوسٹوں پر تلاشی کا کام بھی سخت کردیا ہے جس سے عام لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
پاکستان فوج کے دعوے کے مطابق اس حملے میں علی بخت سمیت نو شدت پسند مارے گئے تھے تاہم آزاد ذرائع سے پانچ طالبان جنگجوؤں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
جمعرات کی صبح نینگوالئی کے مقام پر مقامی لوگوں نے ایک احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ سکیورٹی فورسز طالبان کے خلاف کاروائیوں میں عام شہریوں کے گھروں کو نشانہ نہ بنائے۔ مظاہرے میں تحصیل کبل کے مختلف دیہات سے تعلق رکھنے والے درجنوں افراد نے شرکت کی۔
مقامی ذرائع کے بعد گزشتہ دس دنوں کے دوران سکیورٹی فورسز اور طالبان کے مابین ہونے والے جھڑپوں میں تیس کے قریب عام شہری مارے
جاچکے ہیں۔
واضح رہے کہ سوات میں گزشتہ ہفتے طالبان کی طرف سے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے تین اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد سکیورٹی فورسز نے عسکریت
پسندوں کے خلاف اپریشن شروع کیا تھا جو تاحال جاری ہے۔