Monday, 04 August, 2008, 21:42 GMT 02:42 PST
علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور
مخلوط حکومت میں شامل دو بڑی جماعتوں کے سربراہان یعنی پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور مسلم لیگ نون کے قائد میاں نوازشریف کے درمیان منگل کو اسلام آباد میں ایک اہم ملاقات ہو رہی ہے۔
ملاقات سے ایک دن قبل بھی نواز شریف کا کہنا تھا کہ یہ ایک فیصلہ کن ملاقات ثابت ہوسکتی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی نے انہیں اختیار دے دیا ہے کہ وہ کسی بھی حد تک جاکر فیصلے کرسکتے ہیں۔
اس ملاقات کے حوالے سے پیر کو ماڈل ٹاؤن میں نواز شریف کی سربراہی میں مسلم لیگ نون کی مجلس عاملہ اور پارلیمانی پارٹی کا ایک
مشاورتی اجلاس ہوا۔
|
مسلم لیگ کی حکمت عملی
|
انہوں نے کہا کہ اس ملاقات کا ایجنڈا ان کا خط ہوگا جو وہ سولہ جولائی کو پیپلز پارٹی کے شریک چئیر مین کو لکھ چکے ہیں اور انیس روز گزر جانے کے باوجود اس کا جواب نہیں آیا۔
نواز شریف نے کہا کہ اس خط میں انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر قومی اسمبلی کا اجلاس بلاکر ججوں کو بحال کیا جائے، صدر مشرف کا مواخذہ کیا جائے اور اتحادی پارٹیوں کی مشاورت سے نئے صدر کا نام طے کیا جائے۔
ملاقات کے ایجنڈے میں پیپلز پارٹی سے صدر مشرف کے خلاف غداری کے تحت محاسبہ کرنے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔
![]() |
|
| ماڈل ٹاؤن میں مسلم لیگ کے اجلاس کے بعد نواز شریف کی پریس کانفرنس |
انہوں نے کہاکہ وہ چاہتے کہ مسلم لیگ نون اتحاد میں شامل رہے اور اس میں رہتے ہوئے عوام کے مسائل کرنے کی کوشش کرے۔ انہوں نے کہاکہ اگر اس کے باوجود بھی کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو پھر یقیناً کوئی نہ کوئی فیصلہ کرنا ہوگا۔
انہوں نے ججوں کی بحالی کے سلسلے میں پیپلز پارٹی کی مجوزہ قرارداد پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکمران اتحاد کی قومی اسمبلی میں تو دوتہائی اکثریت ہے لیکن سینٹ میں نہیں ہے اس لیے آئینی پیکج آہی نہیں سکتا۔
میاں نواز شریف نے کہا کہ وہ حکمران اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کے ان فیصلوں کی ذمہ دار نہیں ہیں جن میں انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ بجلی گیس اور پٹرول کی قیمیتیں بڑھانے سمیت کئی اہم معاملات پر مسلم لیگ نون سے مشاورت نہیں کی گئی۔
نواز شریف نے کہا صدر مشرف کو حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لینے یا اس پر تبصرہ کرنے کا کوئی آئینی اور قانونی حق نہیں ہے۔
انہوں نے ملک کی اقتصادی صورتحال کےبارے میں صدر مشرف اور سابق وزیر اعظم شوکت عزیزکو مناظرے کا چیلنج کیا ہے اور کہا کہ وہ چاہتے کہ آمنے سامنے بیٹھ کر بات ہو کہ ملک کو کس نے نقصان اور کس نے فائدہ پہنچایا۔