http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 03 August, 2008, 09:21 GMT 14:21 PST

رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور

سوات:تین گرلز سکول نذرِ آتش

صوبہ سرحد کے شورش زدہ ضلع سوات میں تازہ کاروائیوں میں مسلح افراد نے لڑکیوں کے تین سکولوں کو نذرآتش کیا ہے جبکہ سکیورٹی فورسز اور مقامی طالبان کے مابین فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا ہے۔

دوسری طرف سوات میں صبح سات سے شام سات بجے تک کرفیو میں نرمی دی گئی ہے۔

سوات سے ملنے والی اطلاعات میں پولیس کے مطابق سنیچر کی رات مسلح افراد نے تحصیل خوازہ خیلہ کے علاقے تلی گرام میں لڑکیوں کے ایک مڈل اور ایک پرائمری سکول کو تیل چھڑک کر آگ لگائی جس سےدونوں عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

چارباغ پولیس چوکی کے انچارج سید کرم نے بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ رات گلی باغ کے علاقے میں بھی لڑکیوں کے ایک سکول کو نذرآتش کیا گیا ہے جس سے چند کمروں پر مشتمل عمارت تباہ ہوگئی ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق خوازہ خیلہ تحصیل کے علاقوں سیر اور مالم میں بھی لڑکیوں کے دو سکولوں اور ایک سرکاری دفتر کو آگ لگانے کی اطلاعات ہیں تاہم پولیس سے ان اطلاعات کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

سوات میں فوجی کاروائیاں شروع ہونے کے بعد لڑکیوں کے کئی سکولوں کو آگ لگانے یا بم دھماکوں کا نشانہ بنایا جاچکا ہے۔ سوات میں تقریباً ڈیڑھ ماہ کے دوران مجموعی طورپر ستر سے زائد سکولوں کو نشانہ بناجاچکا ہے جن میں اکثریت خواتین کے تعلیمی ادارے بتائے جاتے ہیں۔ مقامی انتظامیہ الزام لگاتی رہی ہے کہ ان واقعات میں مولانا فضل اللہ کے حامی طالبان ملوث ہیں۔

دوسری طرف اتوار کی صبح حکام کے مطابق کالا کوٹ کے علاقے میں سکیورٹی فورسز اور مقامی طالبان کے مابین تازہ جھڑپ ہوئی ہے جس میں تاحال جانی نقصانات کی مصدقہ اطلاعات نہیں ملی ہے۔

پاکستان فوج کے ایک ترجمان میجر مراد نے بی بی سی کو بتایا کہ اتوار کو مٹہ اور خوازہ خیلہ تحصیلوں سمیت سوات کے تمام علاقوں میں صبح سات سے لیکر شام سات بجے تک کرفیو میں نرمی دی گئی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وینے پل کے اس پار شمال کی طرف پیوچار اور دیگر علاقوں میں بدستور کرفیو نافذ ہے۔

ترجمان نے واضح کیا کہ سوات میں فوجی اپریشن نہیں ہورہا بلکہ یہ جوابی کاورائیاں ہیں جو شدت پسندوں کے خلاف کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز وہاں حکومتی عمل داری بحال کرنے کےلیے کاروائیاں کررہی ہیں۔
سوات میں گزشتہ اتوار کو طالبان کی جانب سے خفیہ ایجنسیوں کے تین اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد سکیورٹی فورسز نے سوموار سے طالبان کے خلاف کاروائی شروع کردی تھی۔ حکومت کا موقف تھا کہ یہ محض ایک جوابی کاروائی ہے تاہم یہ پہلی مرتبہ ہے کہ سرحد میں اعلی سطح کا ایک اجلاس ہوا ہے جس میں اسے ایک ’آپریشن‘ قراردیا گیا ہے۔

فریقین کے درمیان شدید جھڑپوں کے باوجود دونوں نے اس سال مئی میں ہونے والےامن معاہدہ کو ختم کرنے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے۔ تاہم طالبان نے دبے الفاظ میں کہا ہے کہ فوجی کاروائی شروع کرکے حکومت نے عملاً معاہدے کو ختم کر دیا ہے۔