Thursday, 31 July, 2008, 10:33 GMT 15:33 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
قبائلی علاقوں میں سرگرم تحریک طالبان پاکستان نے مشیر داخلہ رحمان ملک کے اس بیان کو مسترد کیا ہے جس میں انہوں نے بیت اللہ محسود پر ہندستان کے ساتھ تعلقات کا الزام عائد کیا تھا۔
تحریک کے ترجمان مولوی عمر نے بی بی سی سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے مشیر داخلہ کے اس بیان پر کافی برہمی کا اظہار کیا جو انہوں نے امریکہ میں صحافیوں سے بات چیت میں دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی تنظیم جہادی تنظیم ہے نا کہ کوئی اجرتی قاتل ادارہ۔
مولوی عمر نے کہا کہ جس طرح وہ امریکہ کو افغانستان پر غاصب، اور اپنا دشمن سمجھتے ہیں ویسے ہی وہ بھارت کو بھی جانتے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارت پاکستان میں مداخلت کرتا ہے جو انہیں پسند نہیں۔
ترجمان نے رحمان ملک کے بیان کو احمقانہ اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا یہ پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غیروں سے مدد مانگنا ان کی سوچ کبھی نہیں ہوسکتی۔
مشیر داخلہ نے قبائلی علاقوں کی صورتحال کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ اس کے پیچھے انڈیا کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیا وجہ ہے کہ افغانستان میں ایک کے بعد ایک قونصل خانے کھو لے جا رہے ہیں۔
انہوں نے افغانستان کے صدر کرزئی کا بھی نام لیا کہ یہ لوگ مِل کر پاکستان کے استحکام کے لیے خطرات میں اضافہ کر رہے ہیں۔