Thursday, 31 July, 2008, 06:05 GMT 11:05 PST
عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں پولیس کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان ہونے والی فائرنگ کے دوران نو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ایگ گھر پر مارٹر گولہ گرنے سے چار بچوں اور ایک خاتون سمیت ایک ہی خاندان کے سات افراد ہلاک ہوئے جبکہ دو الگ الگ واقعات میں دو افراد ہلاک ہو گئے۔
سوات میں ایک پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعات بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب تحصیل کبل کے دیولئی علاقے میں اس وقت پش آئے جب طالبان اور سکیورٹی فورسز کے درمیان بھاری ہتھیاروں سے لڑائی ہو رہی تھی۔
ان کے بقول مارٹر کا ایک گولہ محمد طاہر نامی شخص کے گھر پر گرا جس میں وہ خود، چار بچے، ان کےوالد اور والدہ ہلاک ہوگئی۔
پولیس اہلکار نے مزید بتایا کہ گزشتہ شب فائرنگ میں ایک سکیورٹی اہلکار بھی ہلاک ہوا ہے۔
دوسری طرف سوات میں بدھ کو نافذ ہونے والے کرفیو میں جمعرات کے روز دس سے بارہ بجے تک نرمی کی گئی۔ اس دوران گھروں میں محصور لوگوں نے باہر نکل کرضروری اشیاء کی خریداری کی۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ علاقےمیں کشیدہ صورتحال کی وجہ سے تعلیمی ادارے اور سرکاری دفاتر بند پڑے ہیں۔
طالبان اور سکیورٹی فورسز کے درمیان گزشتہ تین دنوں سے وقفے وقفے سے جاری جھڑپوں میں اب تک سکیورٹی فورسز کے دس اہلکاروں، پچیس طالبان اور دس شہریوں سمیت مجموعی طور پر پینتالیس افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ طالبان اپنے پانچ ساتھیوں کی ہلاکت کی تصدیق کررہے ہیں۔