http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 29 July, 2008, 16:12 GMT 21:12 PST

ذیشان ظفر
اسلام آباد

ملک گیر ہڑتال کا اعلان

آل پارٹیز ڈیمو کریٹک مومنٹ نے اعلان کیا ہے کہ اگر اکتیس اگست تک حکومت معزول ججوں کو بحال نہیں کرتی اور صدر مشرف استعفٰی نہیں دیتے تو یکم ستمبر کو ملک گیر ہڑتال کی جائے گی۔

تحریک کی تاریخ پر فیصلہ نہیں

یہ فیصلہ اٹھارہ فروری کے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے والی سیاسی جماعتوں کے اتحاد اے پی ڈی ایم نے اسلام آباد میں منگل کے روز جماعت اسلامی کے رہنما میاں اسلم کی رہائش گاہ پر ہونے والے اجلاس میں کیا۔

اے پی ڈی ایم کے کنوینر محمود خان اچکزئی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ معزول ججوں کی بحالی اور حقیقی جموریت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ افواج پاکستان اور خفیہ ایجنسیاں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اے پی ڈی ایم کبھی بھی جہموری حکومت کے بدلے غیر آئینی قوتوں اور آمریت کو اقتدار پر قبضے کی اجازت نہیں دے گی اور نہ ہی ایسا کرنے دیں گے۔

محمود خان اچکزئی نے اے پی ڈی ایم کے مطالبات بتاتے ہوئے کہا کہ انہیں حکومتی آئینی پیکج منظور نہیں، آئین کو بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے سے پہلے والی پوزیشن پر بحال کیا جائے اور ملک میں امریکہ سمیت ہر طرح کی بیرونی مداخلت کو ختم کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان اور ملک بھر سے لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے اور بد امنی اور لاقانونیت ختم کی جائے، بارہ مئی میں کراچی میں ہونے والے واقعہ کی تحقیقات کی جائیں اور حالیہ دنوں میں بجلی گیس سمیت جتنی چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے اسے واپس لیا جائے۔

محمود خان اچکزئی نے بتایا اکتیس اگست کی ڈیڈ لائن اور یکم ستمبر کی ملک گیر ہڑتال کے لیے ایک منظم سیاسی تحریک شروع کی جا رہی ہے۔

عوام رابطہ مہم کے لیے پانچ اگست سے سولہ اگست تک ملک بھر میں عوامی سیمنار منعقد کئے جائیں گے جبکہ سترہ اگست سے پچیس اگست تک چاروں صوبوں میں عوامی جسلے منقعد کیے جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں آخری سیمنار اکتیس اگست اسلام آباد میں منقعد کیا جائے گا جس میں اے پی ڈی ایم کے تمام مرکزی قائدین خطاب کریں گے۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بتایا کہ یکم ستمبر کی ہڑتال حکمران اتحاد میں موجود جمہوریت کے میر صادق اور میر جعفر جیسے لوگوں کے خلاف ہو گی۔