Monday, 28 July, 2008, 23:41 GMT 04:41 PST
امریکہ کے جنوبی اور وسطی ایشیا کے لیے نائب وزیر خارجہ رچرڈ باؤچر نے کہا ہے کہ پاکستان نے کثیرالجہتی حکمت عملی کی بات کی تھی جس سے ہم نے اتفاق کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو قبائل کی حمایت حاصل کرنی ہے، اقتصادی ترقی کا سامان کرنا ہے اور انہیں قومی اور اقتصادی دھارے میں شامل کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہیں ان شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے جو اب بھی حکومت کی عمل داری کے خلاف مزاحمت کی کوشش کر رہے ہیں۔ ’انہیں ان لوگوں کے خلاف کارروائی کرنا چاہیے جو پاکستان کے لیے، افغانستان کے لیے اور دنیا بھر میں ہم سب کے لیے خطرہ ہیں۔‘
اس سے قبل وائٹ ہاؤس میں پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور امریکی صدر جارج بُش کی ملاقات ہوئی تھی جس کے بعد صدر بُش نے، قبائلی علاقوں میں طالبان سے نمٹنے کے طریقۂ کار پر اختلافات کے باوجود، کہا تھا کہ وہ اب بھی پاکستان کو ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ میں مضبوط اتحادی مانتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’ہمارا مقصد پاکستان کے ساتھ مِل کر کام کرنا ہے کیونکہ میرے خیال میں ہم سمجھتے ہیں کہ ہم خطے میں استحکام نہیں پیدا کر سکتے یا اسے پاکستان میں نہیں ضم کر سکتے جب تک پاکستانی ان علاقوں میں امن و امان، اقتصادی اور سیاسی ترقی کی ذمہ داری نہیں اٹھاتے‘۔
رچرڈ باؤچر نے کہا کہ پاکستان کی نئی حکومت صرف اسی صورت میں انتہاپسندی کا مقابلہ کر سکتی ہے جب وہ عسکری طاقت استعمال کرنے کے لیے تیار ہو۔
انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں جمہوریت ہی انتہاپسندی سے نمٹنے کا بہترین طریقہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اعتدال پسند جماعتوں کی مخلوط حکومت قائم ہے اور سیاسی رہنماؤں اور فوج کے درمیان تعاون کے اشارے بھی ملے ہیں اور انہوں نے کچھ کارروائیاں بھی کی ہیں۔
باؤچر نے کہا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ حکمت عملی کے تحت ایک بھرپور کارروائی کی صورت اختیار کر لے جو مسئلے کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرے اور جس میں بوقت ضرورت فوجی طاقت کا استعمال بھی شامل ہو‘۔