http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 28 July, 2008, 12:46 GMT 17:46 PST

رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور

باجوڑ میں فوجی چوکی خالی

پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں سیکیورٹی فورسز نے ایک اور اہم مرکز خالی کر کے وہاں سے چلے گئے ہیں جبکہ خالی کردہ مرکز پر مقامی طالبان نے قبضہ کرکے اپنے جھنڈے لگا دیئے ہیں۔

پاکستان فوج کے ایک ترجمان میجر مراد نے بی بی سی کو تصدیق کی کہ فرنٹیر کور نے صدر مقام خار سے چند کلومیٹر دور بادان کوٹ کے علاقے میں قائم ایک مرکز خالی کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ معمول کی ری ایڈجسٹمینٹ ہے جس کا مقصد سیکیورٹی فورسز کے مابین بہتر رابط برقرار رکھنا اور علاقے میں مزید استحکام حاصل کرنا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی سیکیورٹی فورسز کو بعض سرحدی علاقوں سے دوسرے مقامات پر تبدیل کیا گیا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا کہ سیکیورٹی فورسز نے مرکز خالی کرتے وقت وہاں آٹھ مختلف دھماکے کئے جس سے تقریباً آٹھ کمروں پر مشتمل مرکز میں کچھ کمروں کو نقصان پہنچا ہے تاہم کمرے مکمل طورپر تباہ نہیں ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مرکز میں زیرزمین پکے مورچے بھی تعمیر کئے گئے ہیں جنہیں بارودی مواد سے کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔

بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ مرکز خالی کرنے سے پہلے مسلح طالبان نے سارے علاقے کو گھیرے میں لیا ہوا تھا تاہم فرنٹیر کور کے اہلکاروں کو کچھ نہیں کہا گیا بلکہ ان کو محفوظ راستہ دیکر سکیورٹی اہلکار وہاں سے کسی نامعلوم مقام کی طرف چلے گئے۔

ایک قبائلی ملک کے مطابق یہ مرکز 1994 تحریک نفاذ شریعت محمدی کے کارکنوں کے خلاف آپریشن کے بعد تعمیر کیا گیا تھا۔

دریں اثناء تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان مولوی عمر نے دعویٰ کیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی طرف سے خالی کردہ مرکز پر طالبان نے قبضہ کرلیا ہے۔

ترجمان نے بادام کوٹ سے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ مرکز میں تعینات سیکیورٹی فورسز کو محفوظ راستہ دیا گیا اور وہ علاقے سے چلے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر مقام خار کے قریب یہ سکیورٹی فورسز کا ایک مرکز تھا جس پر ان کے مطابق اب طالبان کے جھنڈے لہرا رہے ہیں۔

مولوی عمر نے بتایا کہ انہیں کچھ معلوم نہیں کہ سیکیورٹی فورسز سرحدی اور دیگر مقامات سے کیوں دوسرے علاقوں میں منتقل ہو رہے ہیں۔

چار دن قبل بھی سیکیورٹی فورسز نے باجوڑ ایجنسی میں بعض سرحدی مقامات لگہ پاس، دامنگی اور لیٹے سر میں قائم مراکز اور مورچے خالی کرکے دوسرے مقامات پر منتقل ہوگئے تھے۔ ان مراکز پر بھی اب مقامی طالبان قابض ہیں۔