Friday, 25 July, 2008, 12:08 GMT 17:08 PST
ظہیرالدین بابر
ملتان
پاکستان کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری چھبیس جولائی کو جنوبی پنجاب کے شہر بہاولپور میں آل پاکستان لائرز کنونشن میں شرکت کے لیے جمعے کی شام ملتان پہنچ گئے ہیں۔
ملتان میں ایک رات کے قیام کے بعد معزول چیف جسٹس وکلاء کے قافلے کی قیادت کرتے ہوئے سنیچر کی رات بہاولپور پہنچیں گے جہاں پر وہ ملک بھر سے آئے ہوئے وکلاء کے اجلاس سے خطاب کریں گے۔
عدلیہ کی بحالی کی تحریک کے دوران یہ افتخار چودھری کا ملتان کا تیسرا دورہ ہے۔ ان کے ہمراہ وکلاء کے رہنماء اعتزاز احسن، منیر اے ملک اور علی احمد کرد ہیں۔
بہاولپور کنونشن کے سلسلے میں جنوبی پنجاب کے وکلاء نے بھرپور تیاریاں کر رکھی ہیں۔ ملتان ہائی کورٹ بار کے صدر محمود اشرف کا دعویٰ ہے کہ معزول چیف جسٹس افتخار چودھری کا ملتان اور بہاولپور کا دورہ یہ تاثر ختم کرنے میں مدد دے گا کہ تیرہ جون کو لانگ مارچ کے بعد اسلام آباد میں دھرنا نہ دینے کا فیصلہ کر کے وکلاء تحریک دم توڑ گئی ہے۔
معزول چیف جسٹس افتخار چودھری کے استقبال کے لیے ملتان شہر میں مختلف مقامات پر بینرز اور پوسٹرز لگائے گئے ہیں۔ ملتان پہنچنے کے بعد وہ ہائی کورٹ اور ڈسٹرکٹ بار کی جانب سے ایک عشائیے میں شرکت کریں گے۔ اس عشائیے میں ملتان کے وکلاء انہیں اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن کو اعزازی شیلڈز دیں گے۔
ملتان ہائی کورٹ بار کے جنرل سیکرٹری رانا نوید کا کہنا ہے کہ اس روٹ کے انتخاب کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ شہروں کی طرح جنوبی پنجاب کے دیہاتی علاقوں کے لوگ بھی عدلیہ کی بحالی چاہتے ہیں کیونکہ راستے میں آنے والے ہر چھوٹے شہر اور قصبے میں مقامی وکلاء سمیت عام لوگوں کی بڑی تعداد بھی معزول چیف جسٹس کے استقبال میں شامل ہو گی۔
وکلاء کا قافلہ جلالپور پیروالہ اور لودھراں میں پڑاؤ ڈالتا ہوا بہاولپور پہنچے گا۔ بہاولپور پہنچنے کے بعد معزول چیف جسٹس افتخار چودھری بہاولپور ہائی کورٹ بار کے اس ہال کا افتتاح کریں گے جس کا نام ان کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔
بہاولپور ہائی کورٹ بار کے صدر ملک محمد اسلم کے بقول انہوں نے پنڈال میں پانچ ہزار مہمانوں کے لیے کرسیاں لگوائیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ کے بعد وکلاء کا پہلا بڑا اجلاس ہونے کی وجہ سے ملک بھر سے وکلاء بہاولپور پہنچیں گے۔