http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 23 July, 2008, 14:04 GMT 19:04 PST

رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

ہنگو: جنگ بندی کوششیں، شیلنگ

صوبہ سرحد کے جنوبی شہر ہنگو میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک مقامی جرگہ کی جانب سے جنگ بندی کے لیے کوششیں جاری ہیں تاہم بات چیت میں تاحال کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔

دوسری طرف سکیورٹی فورسز نے قبائلی علاقے کرم ایجنسی کے حدود میں مشتبہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر گولہ باری کی ہے۔

ہنگو کے ضلعی ناظم حاجی خان افضل نے بی بی سی کو بتایا کہ ہنگو کے علماء کرام اور منتخب نمائندوں پر مشتمل جرگہ نے منگل کو کوہاٹ ڈویژن کے ریجنل کوآرڈنیشن افسر سے ان کے دفتر میں ملاقات کی اور ان سے علاقے میں جنگ بندی کے حوالے سے بات چیت کی۔

انہوں نے کہ جرگہ مقامی طالبان سے مذاکرات کےلیے جمعرات کو دوبارہ اورکزئی ایجنسی جائے گا جہاں ان سے جنگ بندی اور دیگر شرائط طے کی جائیں گی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے سلسلے میں جاری بات چیت میں ابھی تک کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ گزشتہ رات اور صبح کے وقت سنٹرل کرم ایجنسی کے علاقے سپیر کیڈ میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر بھاری توپ خانے سے گولے داغے گئے ہیں جس سے علاقے میں شدید خوف وہراس پھیل گیا ہے۔

دوآبہ شہر میں بدستور کرفیو نافذ ہے جبکہ علاقے میں اہم شاہراہیں بھی گزشتہ دو ہفتوں سے بند پڑی ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کو آنے جانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے مرکزی شاہراہ کی بندش کے باعث لوگ سفر کےلیے کچے اور پہاڑی راستے استعمال کر رہے ہیں۔

گزشتہ روز پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے کہا تھا کہ ہنگو میں سکیورٹی فورسز نے تقربناً تمام اہداف حاصل کرلیے ہیں جبکہ قبضہ میں لیے جانے والے علاقوں میں صفائی کا کام بھی تیزی سے جاری ہے۔