Wednesday, 23 July, 2008, 14:30 GMT 19:30 PST
احمد رضا
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
بلوچستان میں جاری فوجی آپریشن کے خلاف کراچی میں بلوچ قوم پرست تنظیموں کے درجنوں کارکنوں نے پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور پاکستانی فوج اور پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔
مظاہرے میں بلوچستان نیشنل پارٹی اور بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے کارکنوں نے حصہ لیا۔ انہوں نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جن پر فوجی آپریشن بند کرنے، بلوچستان سے فورسز کے انخلاء اور لاپتہ افراد کی بازیابی اور گرفتار بلوچوں کی رہائی کے مطالبات درج تھے۔
مظاہرین کی قیادت کرنے والے جمہوری وطن پارٹی کے قائم مقام صدر سلیم بلوچ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں حکومت کی تبدیلی کے باوجود بلوچستان کے حالات میں کوئی فرق نہیں آیا ہے اور ان کے بقول خاص کر ڈیرہ بگٹی، کوہلو اور اس سے متصل علاقوں میں فوج کشی میں تیزی آئی ہے۔
’آج بی این پی اور بی ایس او کے ساتھیوں نے ڈیرہ بگٹی کے غیور اور مظلوم بلوچ عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی اور ان پر پاکستانی فوج
نے جو ظلم کا بازار گرم کر رکھا ہے، اسکے خلاف اس مظاہرے کا انعقاد کیا ہے اور اس عزم کا اظہار کررہے ہیں کہ بلوچ عوام کہیں بھی
ہوں، ایک ہیں۔‘
|
بلوچوں کا مظاہرہ
|
انہوں نے کہا کہ اگر پیپلز پارٹی بلوچستان کے مسئلے کو حل کرنے میں مخلص ہے تو عملی اقدام کرے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک بلوچستان سے فورسز کو باہر نہیں نکالا جاتا وہاں امن قائم نہیں ہوسکتا اور نہ ہی حکومت کی کسی بات پر اعتبار کیا جاسکتا ہے۔
مظاہرے میں شریک بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ کے رہنما مشتاق بلوچ نے کہا کہ ’ایک طرف تو حکومت ہمیں کہہ رہی ہے کہ آئیں مذاکرات کریں اور دوسری طرف ہمارے سر پر بندوق رکھی ہوئی ہے، ہمیں زبردستی بندوق کے زور پر مذاکرات کے لئے مجبور کیا جارہا ہے۔‘
مشتاق بلوچ نے کہا کہ ان کی جماعت نے نظام بدلنے کے لئے پیپلز پارٹی کی حمایت کی لیکن ان کی توقعات پوری نہیں ہورہی۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت بلوچستان کے مسائل کو اتنی ہی سنجیدگی سے لے جس کا مظاہرہ اس نے بے نظیر بھٹو کے قتل کے معاملے پر کیا ہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ سے اپیل کی کہ وہ بلوچستان میں انسانی بنیادوں پر مداخلت کرے اور وہاں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکے۔