Wednesday, 23 July, 2008, 01:35 GMT 06:35 PST
وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان کی نئی حکومت سے کہا ہے کہ ان سینکڑوں افراد کے بارے معلومات فراہم کی جائیں جو دہشتگردی کے خلاف جنگ کے سلسلے میں لاپتہ ہوگئے ہیں۔
ایمنسٹی نے کہا ہے کہ یا تو ان کو رہا کیا جائے ورنہ ان کو باضابطہ سرکاری قید خانوں میں منتقل کیا جائے۔
ایمنسٹی نے پچاس صفحے کی اپنی رپورٹ میں کئی ایسے افراد کی تفصیلات بتائی ہیں جن کو زبردستی لیجایا گیا ہے اور اس کے بعد سے ان کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے۔
ایمنسٹی نے یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان میں معزول ججوں کو بحال کیا جائے۔ اس ادارے کی ایشیا پیسیفک شاخ کے ڈائریکٹر سیم ظریفی نے کہا کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا اصرار ہے کہ ان کی مخلوط حکومت حقوق انسانی کا پاس کرے گی اس لیے ہمارا اصرار ہے کہ ان زبردستی کی گمشدگیوں کا معاملہ جلد از جلد حل کریں۔
ایمنسٹی کی رپورٹ کے مطابق لاپتہ افراد کی تنظیم ڈیفنس آف ہیومین رائٹس اسوقت پانچ سو تریسٹھ غائب افراد کے لواحقین کی نمائندگی کر رہی ہے۔گزشتہ برس یکم نومبر کے بعد سےلاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے سپریم کورٹ میں کوئی سماعت نہیں ہوئی اور یوں یہ مسئلہ بھی ججوں کی بحالی کے معاملے کے ساتھ خود بخود نتھی ہوگیا۔
ڈیفنس آف ہیومین رائٹس کے مطابق تین نومبر کو ججوں کی برطرفی کے بعد سے اب تک لاپتہ افراد کے ساٹھ نئے کیس سامنے آئے ہیں۔ان میں سب سے زیادہ تعداد صوبہ بلوچستان سے ہے۔
ہیومین رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق بلوچستان میں چھ سو کے لگ بھگ لوگ لاپتہ ہیں۔ بلوچ تنظیمیں لاپتہ افراد کی تعداد ہزاروں میں بتاتی ہیں۔ جبکہ بلوچستان کے موجودہ وزیرِ اعلی نواب اسلم رئیسانی ان افراد کی تعداد نو سو سے زائد کہتے ہیں۔
ایمنسٹی کے مطابق اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دسمبر دو ہزار چھ میں شہریوں کو جبری طور پر غائب کرنے کے خلاف جو کنونشن منظور کیا اس پر بہتر ممالک دستخط کر چکے ہیں اور چار ممالک نے توثیق کر دی ہے۔ پاکستان نے تاحال اس کنونشن کو تسلیم نہیں کیا۔
اس کے باوجود صدر پرویز مشرف متعدد مرتبہ ایمنسٹی کی رپورٹوں کو پوری طرح مسترد کرچکے ہیں۔گزشتہ برس مارچ میں پاکستانی صدر نے اس بات کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کردیا کہ سینکڑوں لاپتہ افراد انٹیلی جینس ایجنسیوں کی تحویل میں ہیں۔ بقول صدر مشرف انہیں یقین ہے کہ یہ افراد شدت پسند تنظیموں کے کنٹرول میں ہیں۔
جہاں تک لاپتہ افراد کے معاملے میں نئی حکومت کی دلچسپی کا سوال ہے تو ایمنسٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشیرِ داخلہ رحمان ملک نے حکومت کی تشکیل کے فوراً بعد کہا کہ لاپتہ افراد کے بارے میں تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں۔
وزیرِ قانون فاروق نائیک نے بھی اسی طرح کی یقین دہانی کراتے ہوئے وعدہ کیا کہ لاپتہ افراد جلد رہا ہوجائیں گے۔جبکہ بلوچستان کے نو منتخب وزیرِ اعلی اسلم رئیسانی نے بھی یقین دلایا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی ان کی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔اس سال مئی میں نئی حکومت نے بلوچستان میں حالات کو معمول پر لانے کے لئے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے ایک کمیشن کے قیام کا اعلان کیا۔
تاہم آج تک اس کمیشن کے ارکان، اختیارات اور تحقیقاتی دائرہ کار کا اعلان نہیں کیا گیا۔اسی دوران وزارتِ داخلہ نے لاپتہ افراد کے لواحقین اور ارکانِ پارلیمان پر مشتمل ایک تحقیقاتی کمیٹی قائم کی ۔ تاحال اس کمیٹی کے بھی صرف دو اجلاس ہوئے ہیں اور یہ بھی واضح نہیں کہ اس کمیٹی کا دائرہ کار کیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چشم دیدگواہوں اور بازیاب افراد کے بیانات کی روشنی میں یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ لاپتہ افراد میں بچے بھی شامل ہیں اور ایجنسیاں ان بچوں کو اپنے عزیزوں کے خلاف گواہی دینے پر بھی مجبور کرتی ہیں۔
رپورٹ میں ایک دس سالہ بچے عبداللہ کا تذکرہ ہے جسے سولہ مئی دو ہزار چھ کو اس کے والد مفتی منیر شاکر کے ہمراہ کراچی ایرپورٹ سے گرفتار کیا گیا۔ عبداللہ نے رہائی کے بعد بتایا کہ اس کے ساتھ دورانِ حراست بدسلوکی کی گئی تاکہ وہ یہ اعتراف کرے کہ اس کے باپ کا تعلق القاعدہ سے ہے۔انکار کے بعد اسے پندرہ دن تک ایک علیحدہ سیل میں رکھا گیا۔عبداللہ کو رہائی کی پیش کش کی گئی لیکن اس نے باپ کے بغیر رہا ہونے سے انکار کردیا۔ بالاخر عبداللہ کو اٹھاون روز کی قید کے بعد پشاور میں یہ کہہ کر ایک جگہ چھوڑ دیا گیا کہ اس کے باپ کو بھی پندرہ دن میں رہا کردیا جائے گا۔ عبداللہ کے والد مفتی شاکر کو کئی ماہ بعد اگست دو ہزار سات میں رہا کیا گیا۔
اسی طرح ایک نو سالہ لڑکے اسد عثمان کو گزشتہ سال اپریل میں سپریم کورٹ کی مداخلت پر رہا کیا گیا۔اسے فرنٹئیر کانسٹیبلری نے پکڑ
کر تربت میں ایک جگہ رکھا تھا۔اور اس وقت کی وفاقی وزیر زبیدہ جلال کا یہ بیان ریکارڈ پر ہے کہ اسد کو اسوقت رہا کردیا جائے گا
جب اس کا مطلوب بڑا بھائی خود کو پیش کر دے گا۔
ایمنسٹی کی رپورٹ میں دسمبر دو ہزار چھ میں سپریم کورٹ کے روبرو بازیاب ہونے والے دس لاپتہ افراد کے بیاناتِ حلفی کی روشنی میں
بتایا گیا ہے کہ ان لوگوں کو آئی ایس آئی، ملٹری انٹیلی جینس اور فیلڈ انویسٹی گیشن یونٹ نے پشاور ، لاہور نوشہرہ ، اٹک فورٹ کے
علاوہ اسلام آباد کے سیکٹر آئی نائن کے سیل نمبر بیس اور قاسم مارکیٹ کے قریب ایف آئی اے کے مرکز، راولپنڈی کے علاقے فیض آباد
، چکلالہ سکیم تھری، ائیرپورٹ کے نزدیک پانچ سو ایک نامی ورکشاپ ، آئی ایس آئی کے حمزہ کیمپ ، گیریژن ، اور پنڈی کینٹ سمیت ملک
کے مختلف حصوں میں رکھا گیا۔
|
لاپتہ لوگ کہاں کہاں؟
|
رپورٹ کے مطابق انٹیلی جینس ایجنسیاں اکثر و بیشتر لاپتہ افراد کے لواحقین پر عدالت سے رجوع نہ کرنے اور اخباری بیانات سے پرھیز کرنے کے لئے دباؤ ڈالتی ہیں۔ کبھی انہیں یقین دھانی کرائی جاتی ہے کہ چپ رہنے کی صورت میں ان کے عزیز جلد سامنے آ جائیں گے۔اور کبھی سنگین نتائج اور لاپتہ فرد کے دیگر عزیزوں کو اٹھانے کی دھمکیاں ملتی ہیں۔
ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کی بازیابی میں ایک بنیادی مشکل یہ ہے کہ انٹیلی جینس ایجنسیوں کی جوابدھی اور ان پر کنٹرول کا نظام غیر واضح اور مبہم رکھا گیا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ میں جولائی دو ہزار چھ میں حبسِ بے جا کی ایک درخواست کی سماعت کے دوران سیکرٹری دفاع نے عدالت کو بتایا کہ آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جینس پر وزارتِ دفاع کا انتظامی کنٹرول تو ہے لیکن آپریشنل کنٹرول نہیں ہے ۔لہذا ان ایجنسیوں سے عدالتی احکامات کی تعمیل نہیں کروائی جا سکتی۔
اییمنسٹی کی رپورٹ میں عدالتی طریقِ کار پر بھی تنقید کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہائی کورٹس ریاستی وکلاء کی جانب سے کسی شخص کی نظربندی سے لاعلمی یا انکار کی صورت میں مزید جرح کے بغیر اکثر حبسِ بے جا کی درخواستیں خارج کردیتی ہیں۔
اسی طرح سپریم کورٹ لاپتہ افراد کی بازیابی کے بعد یہ جاننے کے لئے بہت کم دلچسپی کا مظاہرہ کرتی ہے کہ مذکورہ شخص کس ادارے کی تحویل میں تھا اور اس ادارے کی جوابدھی کیسے ہو۔اس کے علاوہ گمشدگی کے مقدمات کی سماعت طویل عرصے کے لئے ملتوی کردی جاتی ہے۔اور یوں گمشدہ فرد اور اسکے عزیزوں کی تکالیف کا دائرہ بڑھ جاتا ہے۔
ایمنسٹی نے اپنی رپورٹ میں مطالبہ کیا ہے کہ لاپتہ افراد کو یا تو فوری طور پر منظرِ عام پر لایا جائے یا ان پر باقاعدہ فردِ جرم عائد کر کے تسلیم شدہ عدالت میں مقدمہ چلایا جائے۔ یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ غلط بیانی کرنے والے یا غیر قانونی حراست اور گمشدگی میں ملوث تمام افراد کو بلاامتیازِ عہدہ و مرتبہ کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔
اس کے علاوہ تمام خفیہ نظربندی مراکز کو ختم کرکے ان کی موجودگی اور قیام کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔انٹیلیجینس ایجنسیوں کو
ان کے اقدامات کی جوابدہی کے لئے قانوناً پابند کیا جائےاور لاپتہ افراد سمیت انسانی حقوق کے تمام عالمی معاہدوں اور کنونشنز کو
جلد از جلد تسلیم کیا جائے۔