Tuesday, 22 July, 2008, 10:09 GMT 15:09 PST
بیورو رپورٹ
اسلام آباد
پاکستان اور ایران نے شیعہ سنی اختلافات کے خاتمے کے لیے مشترکہ کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس بات کا اعلان وزیراعظم کے مشیر داخلہ رحمان ملک نے ایرانی وزیر داخلہ سید مہدی ہاشمی کے ساتھ یہاں ملاقات کے اختتام پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کیا۔
مشیر داخلہ کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان جن جن پہلووں پر بات ہوئی ہے وہ ان سے مطمئن ہیں۔
رحمان ملک کا کہنا تھا کہ ان کے ملک میں سب سے بڑا مسئلہ شیعہ سنی فسادات ہیں اور اگر ایران ساتھ دے تو شیعہ سنی مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں فرقوں کے علماء ایک جگہ مل بیٹھ کر ہی اس مسئلے کو حل کر سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی تیسری طاقت ہے جو ان دونوں فرقوں میں آگ لگا رہی ہے اور جوں ہی یہ آگ کچھ ٹھنڈی پڑتی ہے اسے پھر سے ہوا دی جاتی ہے۔
رحمان ملک کا کہنا تھا کہ ان کی سید مہدی ہاشمی سے دونوں ممالک کے درمیان سمگلنگ کے مسئلے پر بھی بات ہوئی ہے۔ دونوں ملکوں سے
اشیاء سمگل کی جاتیں ہیں اور خاص طور پر تیل کی سمگلنگ اور دہشت گردوں کی روک تھام کے لیے ایک مشترکہ ورکنگ گروپ بنانے کا بھی
فیصلہ کیا گیا ہے۔
|
بجلی کا مسئلہ، ایران کا وعدہ
|
رحمان ملک نے بتایا کہ ایران کے صدر نے خصوصی پیغام بھجوایا ہے کہ ایران پاکستان کے ساتھ سیاحت، صنعت اور تجارت کو فروغ دینا چاہتا ہے۔
رحمان ملک کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک کو درپیش بجلی کے مسئلہ پر بھی ان کی ایران کے وفد سے بات ہوئی ہے اور ایران کے پاس اضافی بجلی ہونے کی وجہ سے انہوں نے پاکستان کی اس مسئلے کو حل کرنے میں مدد کرنے کا وعدہ کیا ہے۔