Monday, 21 July, 2008, 14:39 GMT 19:39 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور
صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع ہنگو میں ایک جرگہ نے علاقے میں مقامی طالبان کو پناہ دینے یا ان کی مدد کرنے والوں کو بیس لاکھ روپے جرمانہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
پیر کی صبح ہنگو کے نواحی علاقے کربوغہ شریف میں ایک جرگہ منعقد ہوا جس میں مقامی مشران، علماء کرام اور عوامی نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
جرگہ میں شریک کربوغہ یونین کونسل کے نائب ناظم حفیظ سلطان نے بی بی سی کو بتایا کہ جرگہ میں متفق طورپر فیصلہ کیا گیا کہ علاقے میں کسی شدت پسند یا حکومت کو مطلوب افراد کو پناہ نہیں دی جائیگی اور نہ ان کی مدد کی جائیگی۔
انہوں نے کہا کہ جرگہ کے فیصلے کے مطابق خلاف ورزی کرنے والوں سے بیس لاکھ روپے بطور جرمانہ وصول کیا جائےگا۔
انہوں نے کہا کہ جرگہ نے اس بات پر اتفاق کرلیا کہ علاقے میں امن وامان بحال کرنے کے وہ خود ذمہ دار ہونگے اور اس سلسلے میں حکومتی اہلکاروں سے رابطے میں رہیں گے۔
چند دن قبل ہنگو شہر سے چالیس کلومیٹر دور توری اوڑی کے علاقے میں بھی ایک مقامی جرگہ نے طالبان کو پناہ دینے پر پابندی لگانے کا اعلان کیا تھا۔
دوسری طرف ہنگو میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے طالبان کے خلاف کارروائی جاری ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کرم ایجنسی کی سرحد پر واقع تورہ اوڑی کے علاقوں میں مشتبہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر توپ خانے سے تازہ حملے کئے ہیں تاہم اس میں نقصانات کی اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں۔
حکام کے مطابق ہنگو شہر اور دوابہ میں بدستور کرفیو نافذ ہے۔ پشاور میں اتوار کی شام ہنگو کے منتخب نمائندوں اور ضلعی ناظم پر مشتمل ایک جرگہ نے وزیراعلی سرحد امیر حیدر خان ہوتی سے ملاقات کی تھی۔ جرگہ کے ایک رکن نے بتایا تھا کہ وزیراعلی نے مشران کو طالبان سے مذاکرات کا اختیار دے دیا ہے تاہم سرکاری طورپر اس سلسلے میں ابھی تک کچھ نہیں کہا گیا ہے۔
ادھر زرگیری سے تعلق رکھنے والے جمعیت علماء اسلام (ف) کے سینیٹر میاں محمد حسین نے الزام لگایا ہے کہ صوبائی حکومت ہنگو میں امن نہیں بلکہ مزید کارروائیاں کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے جرگہ کو طالبان سے مذاکرات کرنے اور پھر جنگ بندی کرنے کی ہدایت کی ہے حالانکہ ہر جگہ یہ روایت ہے کہ پہلے جنگ بندی ہوتی ہے اس کے بعد بات چیت کا عمل شروع ہوتا ہے۔