Friday, 18 July, 2008, 07:55 GMT 12:55 PST
عبادالحق
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس مولوی انوار الحق نے ایک مقدمے میں قومی اسمبلی میں موجودہ قائد حزبِ اختلاف چودھری پرویز الہیْ اور سابق قائد حزب مخالف مولانا فضل الرحمن سمیت سابق حکومت کی بعض سیاسی اور سرکاری شخصیات کے خلاف جاری گرفتاری کے وارنٹ معطل کر دیے ہیں۔
عدالت نے یہ حکم ان رہنماؤں کے خلاف مقامی عدالت میں زیر سماعت مقدمہ کا ازخود نوٹس لینے کے بعد کارروائی کرتے ہوئے دیا۔اس معاملے پر مزید کارروائی اکیس جولائی کو ہوگی۔
لاہور کی ایک مقامی عدالت نے سرکاری ہسپتال کے سرجن ڈاکٹر مقصود کی درخواست پر پرویز الہیْ اور مولانا فضل الرحمان سمیت سابق حکومت کے چند اعلی حکام کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے قومی اخبارات میں ان رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری کے اجرا کی خبروں کی اشاعت پر ازخود نوٹس لیا تھا اور ہدایت کی تھی کہ یہ معاملہ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس انوار الحق کے سامنے سماعت کے لیے پیش کیا جائے۔
جسٹس مولوی انوارالحق نے ابتدائی کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد معطل کردیا اور مقامی عدالت کے جج کو ہائی کورٹ کے فیصلہ تک کوئی کارروائی کرنے سے روک دیا۔
ہائی کورٹ کے جج نے مدعی ڈاکٹر مقصود کو بھی آئندہ سماعت پر طلب کرلیا ہے۔
ڈااکٹر مقصود نے اپنی درخواست میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ پرویز الہی اور صوبائی حکومت کے حکام نے ان کے خلاف زلزلہ سے متاثرہ
ایک لڑکی سے مبینہ زیادتی کا جھوٹا مقدمہ درج کرایا تھا۔
مولانا فضل الرحمان پر اس معاملے میں بیان بازی کرنے اور مدعی کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
ڈاکٹر مقصود نے سپریم کورٹ سے بریت کے بعد لاہور میں ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں قذف کا مقدمہ دائر کیا تھا جس میں کہا گیا ہے کہ انہیں اس مقدمہ کی وجہ سے ہتک عزت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔