Wednesday, 16 July, 2008, 12:56 GMT 17:56 PST
ارمان صابر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی سٹاک ایکسچینج میں رواں ہفتے کے دوران دوسری بار بدھ کو شدید مندی کا رجحان دیکھنے میں آیا اور کے ایس ای ہنڈرڈ انڈیکس میں چارسواڑسٹھ پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
ماہرین بازارِ حصص میں مندی کی وجوہات مرکزی بینک کی جانب سے مالیاتی پھیلاؤ پر قابو پانے کے اقدامات، ملک کی سیاسی اور سرحدی صورتحال اور عالمی منڈی میں تیل کی گرانی کو قرار دے رہے ہیں۔
بازار حصص میں مسلسل مندی کے رجحان کے بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی وجوہات ہمہ جہتی ہیں جن میں ملکی معاملات بھی شامل ہیں اور بین الاقوامی تیل کی قیمت میں اضافہ بھی۔
بازارِ حصص پر گہری نظر رکھنے والے اظہر باٹلہ کہتے ہیں کہ جب سٹیٹ بینک نے شرح سود میں ڈیڑھ فیصد اضافہ کیا اس وقت بازار حصص
مالیاتی فقدان کا شکار تھا اور اس کا منفی اثر یہ پڑا تھا کہ لوگ اپنے سودے فروخت کرنے لگے۔ دوسری جانب ملک کے سرحدی معاملات میں
ابتری رہی اور ساتھ ہی ساتھ امریکہ اور یورپ کے بیانات اس معاملے پر منفی تھے جبکہ تیل کی بڑھی ہوئی قیمتوں اور مہنگائی میں اضافے
کے باعث سرمایہ کاروں نے اپنے سرمائے کو مارکیٹ سے نکالنا شروع کردیا۔
![]() |
|
| مسلسل مندی کے رجحان کے بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی وجوہات ہمہ جہتی ہیں |
دوسری جانب سٹاک مارکیٹ کے تجزیہ کار عقیل کریم ڈیڈی کا کہنا ہے کہ مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں اضافہ، کرنسی مارکیٹ میں روپے کی قدر میں کمی اور اس کی خرید اور فروخت میں کافی فرق، سرکاری اداروں کی بازارِ حصص میں عدم دلچسپی، ایسی وجوہات ہیں جس سے مقامی اور بیرونِ ملک سرمایہ کاروں کا اعتماد مارکیٹ پر بری طرح مجروح ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ ابھی مرکزی بینک شرح سود میں مزید اضافہ کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مرکزی بینک کو چاہیے کہ وہ کرنسی کی خرید اور فروخت میں فرق کو کم کرے اور سرکاری ادارے جو بازارِ حصص میں بھرپور کردار ادا کرسکتے ہیں وہ سودوں کی خریدوفروخت میں حصہ لیں جس سے مارکیٹ میں بہتری آنے کی امید ہے۔