Wednesday, 16 July, 2008, 16:24 GMT 21:24 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی
ملک میں غریب لوگوں کے دو وقت کھانے کے لیے بھیک مشن پر نکلنے والے سماجی خدمت گار عبدالستار ایدھی کو حکام نے ہنگو جانے سے روک دیا ہے جس کے بعد وہ واپس پشاور روانہ ہوگئے۔
ایدھی ملک بھر میں ایسے ساڑھے تین سو مراکز (لنگر) قائم کرنے کے مشن پر ہیں جن میں ان کے مطابق روزانہ تقریباً بیس لاکھ لوگوں کو مفت میں کھانا کھلایا جائے گا۔ ایدھی نے یہ مشن کراچی سے شروع کیا تھا۔
ایدھی فاونڈیشن کے سربراہ عبدالستار ایدھی نے بی بی سی کو بتایا کہ ہنگو سے سات کلومیٹر باہر پولیس نے انہیں روک لیا اور بتایا کہ وہ شہر میں نہیں جا سکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ وہ انتظار کرتے رہے کہ ہوسکتا ہے کہ اجازت مل جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے رسک پر گئے تھے حکام کو روکنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں تھا۔ ’لبنان، افغانستان اور ایران میں بھی کسی نے نہیں روکا‘۔
ایدھی کے مطابق یہ پہلا علاقہ ہے کہ جہاں وہ انسانیت کے کام کے لیے جا رہے تھے اور انہیں روکا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ان کی ملا عمر سے جان پہچان اس وقت کی ہے جب ملا عمر کراچی میں نیو ٹاون مدرسے میں درس و تدریس سے منسلک تھے تو انہوں نے ان کے سینٹر کی دو لاوارث لڑکیوں کا نکاح بھی پڑھایا تھا۔
مولانا ایدھی نے بتایا کہ حکام نے ان کا سارا پروگرام خراب کردیا ہے۔ وہ ہنگو سے پارا چنار اور وہاں سے افغانستان چلے جاتے جو ان کے لیے آزاد ملک ہے وہاں انہیں کوئی نہیں روکتا۔