http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 16 July, 2008, 15:31 GMT 20:31 PST

ذیشان حیدر
اسلام آباد

سول سوسائٹی: نئی تحریک تیار

سول سوسائٹی کے زیرِ اہتمام اسلام آباد میں ایک سیمینار ہوا جس کا مقصد ایک نئی تحریک کا آغاز کرنا تھا۔ اس تحریک کا نام سول سوسائٹی الائنس رکھا گیا ہے۔ جس کا مقصد ان کے مطابق مظلوم بننے کے بجائے ملک و قوم کے لیے کچھ کر گزرنے کے جذبے سے نفرتوں اور ظلم کو ختم کرنا ہے۔

اس مقصد کے حصول کے لیے سول سوسائٹی نے معاشرے کے تمام طبقات، جن میں محنت کش، دانشور، ماہرین تعلیم، این جی اوز، کسان طبقہ وغیرہ شامل ہیں، کے انفرادی جذبوں، طاقت اور سوچ کو اجتماعی کوشش میں تبدیل کرنے کا نیٹ ورک تشکیل دیا ہے۔ جس کے ذریعے مظلوموں اور بے یار و مددگار افراد کی مدد کے لیے کردار ادا کیا جائے گا۔

ایک مجبوری اور ضرورت
 سول سوسائٹی الائنس ہمارے ملک پاکستان کے لیے آج ایک مجبوری اور ضرورت ہے اس کے بغیر ہم اپنے بچوں اور نوجوانوں کو وہ ملک نہیں دے سکتے جس کے لیے قربانیاں دی گئیں تھیں
 
سمیرا ملک

اس سیمینار میں ملک کے چاروں صوبوں سے عام لوگوں کے ساتھ ساتھ سیاسی شخصیات اور این جی اوز کے نمائندوں نے خیالات کا اظہار کیا۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سیاسی جماعت مسلم لیگ ق کی رکن سمیرا ملک نے کہا کہ سول سوسائٹی الائنس ہمارے ملک پاکستان کے لیے آج ایک مجبوری اور ضرورت ہے اس کے بغیر ہم اپنے بچوں اور نوجوانوں کو وہ ملک نہیں دے سکتے جس کے لیے قربانیاں دی گئیں تھیں۔ کیونکہ سیاستدان، سول سوسائٹی یا بکھری ہوئی قوم کبھی اپنے طور پر اپنا مقصد حاصل نہیں کر سکتے۔

انہوں نے کہا کہ سول سوسائٹی الائنس کا ایجنڈا انہوں نے دیکھا ہے اور وہ اپنے بہن بھائیوں سے درخواست کرتی ہیں کہ وہ آگے آ کر اس سوسائٹی میں شامل ہو کر ملک بچانے میں اپنا فرض ادا کریں۔

سول سوسائٹی الائنس نے نو نکاتی ایجنڈے کے تحت کام کرنے کا اعلان کیا ہے جن میں جذبۂ حب الوطنی کا فروغ، سماجی اور معاشی انصاف، عوامی خوشحالی اور وفاق کی اکائیوں اور افراد کو برابری کی بنیاد پر باہم متحد کرنا جیسے نکات شامل ہیں۔