Tuesday, 15 July, 2008, 11:39 GMT 16:39 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
حزبِ اختلاف کی بڑی جماعت مسلم لیگ (ق) نے حکومت سے ’دہشت گردی کےخلاف جنگ‘ کے موضوع پر قومی اتفاق رائے کے لیے پارلیمان کا مشترکہ اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
جماعت کے سیکرٹری جنرل مشاہد حسین نے منگل کو اسلام آباد میں ایک اخباری کانفرنس میں یہ مطالبہ پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام اراکین کو بےشک اس حساس مسئلے پر بند کمرے میں بریفنگ دی جائے لیکن یہ اتفاق رائے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کے اس ماہ کے اواخر میں امریکی دورے سے قبل حاصل کر لیا جانا چاہیے۔
اتفاق رائے کے حصول میں انہوں نے تاہم حکومت کو حزب اختلاف کی جانب سے تمام تر تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ ’ہم اس مسئلے پر پوائنٹ سکورنگ کے حق میں نہیں کیونکہ یہ تمام پاکستان کا مسئلہ ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ امریکی اور افغان حکومتوں کی دھمکیوں کے بعد صورتحال میں کافی تبدیلی آئی ہے۔ اس وقت ان کے مطابق درجہ حرات جان بوجھ کر بڑھایا جا رہا ہے۔ ’ماضی میں نہ تو امریکہ اور نہ ہی افغانستان کی جانب سے اس قسم کی دھمکی آمیز باتیں ہوئی ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ حکومت بھی پارلیمان کی بالادستی کی بات کرتی ہے لہذا یہ معاملہ منتخب ایوان کے سامنے لائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان اور بھارت ایک ہی طرح کی زبان استعمال کر رہے ہیں جس سے لگتا ہے کہ دونوں مشترکہ پالیسی پرگامزن ہیں۔
وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی امریکی صدر جارج بش کی دعوت پر اٹھائیس جولائی کو واشنگٹن میں ان سے ملاقات کریں گے۔