Saturday, 12 July, 2008, 04:11 GMT 09:11 PST
پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے دعوی کیا ہے کہ جمعرات کی رات کو اجنوبی وزیرستان میں انگور اڈہ کے قریب پاکستان فوج کی چوکی پر سرحد پار حملے کے جواب میں پاکستان فوج نے جوابی فائر کیا جس سے دوسری جانب بھی کئی اہلکار زخمی ہو گئے۔
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان ایجنسی میں انگور اڈہ کے قریب واقع پاکستان فوجی چوکی سیرا پر گزشتہ شب امریکی اور اتحادی فوج کی طرف سے مارٹر حملے کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان فوج نے اپنا احتجاج افغانستان میں تعینات کثیر الاقومی فوج ایسف کے ہیڈ کواٹر بھجوا دیا گیا ہے۔
پاکستان کی فوج چوکی پر مارٹر حملے سے پنجاب رجمنٹ کے آٹھ فوجی زخمی ہو گئے تھے۔
بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے میجر جنرل اطہر عباس نے
واقع کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ افغان سرحد پر پاکستان کی فوجی چوکی سیرا پر سرحد پر ماٹر فائر کیئے گئے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان فوج نے فوراً جوابی فائر کیا اور ان کی اطلاعات کے مطابق دوسری جانب کئی اہلکار زخمی ہو گئے۔
گزشتہ ماہ امریکی فوج کے ایک حملے میں گیارہ پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کے واقع کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس کی تحقیقات چل رہی ہیں اور اس سلسلے میں دونوں ملکوں کے فوجی حکام کے درمیان تین ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس واقع کی پاکستان فوج کے علاوہ پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے امریکی حکومت سے باقاعدہ شکایت کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوجی افسر اور جوانوں جو شدت پسندوں کے خلاف کارروائی انہیں یہ امید نہیں تھی کہ امریکی فوج انہیں ہی نشانہ بنائے گی۔ اطہر عباس نے کہا کہ اس وجہ سے ’ہمیں شدید غصہ آیا۔‘
کچھ سابق فوجی جرنیلوں کی طرف سے ان بیانات پر کہ پاکستان فوج پر امریکی فوج کی طرف سےاب تک چھیالیس حملے ہو چکے ہیں میجر جنرل عباس نے کہا اس طرح کے بیانات کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان فوج اور امریکی فوج میں تعاون جاری ہے اور اب بھی پاکستان فوج ان کی طرف سے فراہم کردہ اٹیلی جنس معلومات پر کارروائیاں کرتی ہے۔