Saturday, 12 July, 2008, 10:33 GMT 15:33 PST
افغانستان میں تعینات نیٹو افواج نے دعوٰی کیا ہے کہ دس جولائی کو افغان سرحد کے قریب پاکستانی علاقے انگور اڈہ میں گولہ باری طالبان نے کی تھی اور ممکنہ طور پر ان کا مقصد ’سرحدی جھڑپ‘ کروانا تھا۔
اس گولہ باری سے ایک پاکستانی چیک پوسٹ پر تعینات پنجاب رجمنٹ کے آٹھ فوجی زخمی ہو گئے تھے۔
ایساف کی جانب سے جاری کردہ بیان میں نیٹو حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس گولہ باری سے پاک افغان سرحد پر تعینات افغان فوجی بھی زخمی ہوئے ہیں۔
بیان کے مطابق’شدت پسندوں نے دس جولائی کی شام پاکستان اور افغانستان میں ایک ساتھ ٹھکانوں پر گولہ باری کی جس میں افغان پولیس کے چار اور پاکستانی فوج کے آٹھ جوان زخمی ہوئے‘۔ ایساف حکام کی جانب سے شک ظاہر کیا گیا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تنازعہ کھڑا کرنا تھا۔
نیٹو افواج کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کی جانب سے جوابی گولہ باری اور فضائی کارروائی کے دوران پھینکا گیا کوئی گولہ یا بم پاکستانی علاقے میں نہیں گرا۔ بیان کے مطابق’ ایساف افواج نے افغانستان کی حدود میں دو مقامات پر گولہ باری کا جواب دیا اور ایساف کی جانب سے چلائے جانے والے تمام گولوں نے شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا‘۔
پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے دعوٰی کیا ہے کہ انگور اڈہ کے قریب پاکستانی فوج کی چوکی پر سرحد پار حملے کے جواب میں پاکستان فوج نے جوابی فائر کیا جس سے دوسری جانب بھی کئی اہلکار زخمی ہو گئے۔
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان ایجنسی میں انگور اڈہ کے قریب واقع پاکستان فوجی چوکی سیرا پر مارٹر حملے کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان فوج نے اپنا احتجاج افغانستان میں تعینات کثیر الاقومی فوج ایساف کے ہیڈ کواٹر بھجوا دیا ہے۔