http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 11 July, 2008, 11:47 GMT 16:47 PST

ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

’مرکز غازی شہید‘

لال مسجد کارروائی میں گزشتہ برس ہلاک ہونے والے نائب خطیب عبدالرشید غازی کی اہلیہ نے ان کی یاد میں ’شہداء‘ کے بچوں کی کفالت کے لیے مرکز قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

حمیرا رشید غازی نے ایک اخباری کانفرنس میں شکایت کی کہ گزشتہ ایک برس کے دوران کسی ریاستی ادارے، سیاسی یا دینی جماعت اور نہ ہی کسی عالمی انسانی تنظیم نے لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے متاثرین کی بحالی اور کفالت کی کوئی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وجہ سے سینکڑوں خاندان دربدر ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس نئی غیرسرکاری اور غیرسیاسی تنظیم کی بنیاد غازی عبدالرشید کی وصیت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس تنظیم کا کام ہلاک ہونے والوں کے خاندانوں کی کفالت، ان کے بچوں کے لیے جدید تعلیمی ادارے قائم کرنا، طبی سہولتوں کی فراہمی، جنگ زدہ علاقوں میں امدادی مراکز قائم کرنا، لاپتہ افراد کی بازیابی اور قانونی مدد فراہم کرنا ہے۔

غازی عبدالرشید لال مسجد کے محاصرے کے آخری دن سکیورٹی فورسز کی کارروائی کا نشانہ بن کر ہلاک ہوئے تھے۔

حشمت حبیب کا کہنا تھا کہ یہ تنظیم عمومی طور پر تمام اور خصوصی طور پر لال مسجد کے متاثرین کے لیے ہوگی۔ انہوں نے اس تنظیم کی کامیابی کے لیے بھرپور تعاون کی اپیل کی اور یہ بھی کہا کہ انہیں کسی مالی معاونت کی ضرورت نہیں ہے۔

غازی رشید کی اہلیہ حمیرا جنہیں لال مسجد کارروائی کے دوران انسداد دہشت گردی عدالت میں آٹھ مقدمات کا سامنا ہے کہنا تھا کہ نئی حکومت نے اس بابت ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ انہیں کسی رابطے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔

حشمت حبیب کا کہنا تھا کہ لال مسجد میں ہلاکتوں کی تعداد سرکاری تعداد سے کئی گنا زیادہ ہے جبکہ پانچ سو سے زائد گرفتار افراد میں سے پچاس اب بھی جیل میں مختلف مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں اس تنظیم کی شاخیں قائم کی جائیں گی تاکہ بقول ان کے خوف خدا کے حامل لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کریں اور ایسا مضبوط ادارہ بنائیں جو غازی عبدالرشید کے مشن کو جاری رکھ سکے۔