Thursday, 10 July, 2008, 10:10 GMT 15:10 PST
نخبت ملک
اسلام آباد
لال مسجد کے واقعہ کوگزشتہ روز ایک سال پورا ہونے پر مولانا عبدالعزیز کی اہلیہ ام حسان کی سربراہی میں خواتین کانفرنس کا اہتمام کیا گیا۔کچھ سوالات میرے ذہن میں تھے لہذا میں ان سے ملنے کے لیے لال مسجد پہنچی۔ ۔ ۔
لال مسجد کے آس پاس کا تمام علاقہ خاردار تاریں لگا کر سیل کیا گیا تھا اور گاڑیوں کی آمد و رفت منع تھی۔ بھاری تعداد میں پولیس موجود ہونے کی وجہ سے اس جگہ پر صرف نیلی وردیاں یا کالے برقعے نظر آرہے تھے۔
اتنے سارے کالے برقعوں کے درمیان سفید دوپٹہ لیےمیں وہاں کھڑی تھی تو ہر نظر مجھ پر تھی ۔اور ابھی میں آس پاس کا جائزہ لے ہی رہی تھی کہ ایک آواز آئی’ تمام بہنیں فورا نقاب کر لیں میڈیا والے اندر آگئے ہیں‘ اور پھر ایک ہلچل سی مچی اور خواتین نے نقاب کرنے شروع کر دیے ۔
جب میں تھوڑا آگے بڑھی تو ایک اور آواز آئی’ آپ کیمرہ بند کر دیجیئے اور جو تصاویر آپ نے لی ہیں وہ ہمارے سامنے ابھی ضائع کر دیجیے ورنہ ہم کیمرہ چھین لیں گیں یا آپ کو باہر نہیں جانے دیا جائے گا۔‘
اسی لمحے میرے گرد بے شمار کالے برقعوں کا گھیراؤ تھا میں نے نہ چاہتے ہوئے تصاویران کو دکھائیں اور جن تصاویر میں کسی عورت کا چہرہ نظر آرہا تھا وہ ان کے سامنے کیمرے سے نکال دیں۔
تھوڑا اور آگے بڑھ کر ایک برقع پوش خاتون سے بات کرنا چاہی تو جواب ملا ’ آپی نے ہمیں میڈیا سے بات کرنے سے منع کیا ہے۔‘
![]() |
|
| لال مسجد کے آس پاس کا تمام علاقہ خاردار تاریں لگا کر سیل کیا گیا تھا |
میں نے خود ہی اس جمِ غفیر میں انہیں ڈھونڈنے کا فیصلہ کیا۔ آج سے پہلے ان سے ملی نہیں تھی سوچا پہچانوں گی کیسے ؟
اس دوران ایک اور بات جو میں نے نوٹ کی وہ یہ تھی کہ وہاں موجود خواتین میں سے ہر ایک کے چہرے پر ایک ایسا تاثر تھا کہ وہ اپنی اہمیت سے واقف ہیں اور میں یعنی میڈیا کی نمائندہ ان کی اہمیت کی وجہ سے وہاں ہوں۔
ایک جگہ مجھے کچھ عورتوں کا ہجوم ایک دائرے میں بیٹھا نظر آیا درمیان میں ایک ُادھیڑ عمر کی سفید بالوں والی خاتون کالے برقعے
میں ملبوس اپنے ارد گرد کی خواتین سے باتیں کرنے میں مصروف تھیں میرے گھورنے پر وہ متوجہ ہوئیں اور ان کا پہلا سوال تھا’ آپ کا
تعلق کس میڈیا سے ہے ؟
![]() |
|
| وہاں موجود خواتین میں سے ہر ایک کے چہرے پر ایک ایسا تاثر تھا کہ وہ اپنی اہمیت سے واقف ہیں |
وہ مسکرائیں اور کہا ’جی ہاں آجائیں ۔‘
تعارف کے بعد ان کا لہجہ قدرے شکایتی اور سخت تھا مگر جیسے ہی میں نے ان کی بات ریکارڈکرنے کے لیے مائک آن کیا ان کا لہجہ انتہائی میٹھا ہو گیا اور انہوں نے میرے تمام سوالوں کے جواب بہت آرام سے دیے۔
ام حسان کے مطابق کانفرنس منعقد کرنے کا مقصد گزشتہ سال انہی دنوں میں بوڑھوں اور جوانوں کی نفاذ اسلام کی خاطر دی جانے والی قربانیوں کو یاد کرنے کے ساتھ ہی تین دن پہلے ہونے والی مردوں کی کانفرنس میں جاری کردہ اعلانیہ کے بارے میں عورتوں کو معلومات دینا تھا۔
ام حسان نے کہا کہ کہ ان کے مطالبات نئی حکومت ضرور پورے کرے گے لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو اللہ اس حکومت کو تبدیل کر دے گا۔ مطالبات کے بارے میں کسی نئی بات کا اضافہ کئے بغیر انہوں نے دہرایا کہ مولانا عبدالعزیز کو با عزت طور پر رہا کیا جائے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جامعہ حفصہ کو دوبارہ تعمیر کیا جائے اور جامعہ فریدیہ کو تعلیم کے لئے کھولا جائے۔ جامعہ حفصہ کی جگہ پر ان کی ہدایت پر ایک حفظ کی کلاس روزانہ ہو گی۔ یہ پوچھنے پر کہ یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا ام حسان کی طرف سے انتہائی مختصر سا جواب ملا ’جب تک جان میں جان ہے‘۔
ان کے چہرے پر ان سوالوں کا جواب دیتے ہوئے ایک عجیب سا سکون تھا جس پر میں نے ان سے کریدنے کے کوشش کی کہ اگر یہ مطالبات منظور نہ ہوئے تو ان کا اگلا لائحہ عمل کیا ہو گا انہوں نے جھنجلاہٹ میں کہا ’مجھے نہیں پتہ یہ سوال کیوں کیا جاتا ہے ۔ مگر ایک بات طے ہے کہ میں نہیں جاؤں گی ان کے پاس یہ خود آئیں گے۔ مجھ سے بات کرنے۔‘
لال مسجد کے اس پہلے دورے میں مجھے محسوس ہوا کہ اس سے جڑے افراد کی طاقت نوجوان نسل ہے۔ طالبات کی اکثریت کم عمر لڑکیاں تھیں جو خود کچھ کہنے کی نسبت اپنے بڑوں کے نقش قدم پر آنکھیں بند کر کے چلنے پر یقین رکھتی ہیں۔