http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 09 July, 2008, 16:03 GMT 21:03 PST

رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور

ہنگو میں ایک بٹالین فوج روانہ

صوبہ سرحد کے جنوبی شہر ہنگو میں چھ طالبان شدت پسندوں کی گرفتاری کے بعد تھانے کے محاصرے کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک بٹالین فوج روانہ کر دی گئی ہے۔

ہنگو میں پولیس نے چھ طالبان شدت پسندوں کو گرفتار کر لیا تھا جس کے بعد عسکریت پسندوں نے جوابی کارروائی کے طور پر ایک تھانے کو محاصرے میں لے لیا ہے۔

ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل اطہر عباس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کی درخواست پر ہنگو کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک بٹالین فوج روانہ کر دی گئی ہے۔

ان گرفتاریوں کے بعد علاقے میں حالات سخت کشیدہ ہوگئے ہیں۔

ہنگو کے ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ بدھ کی صبح پولیس اور ایف سی اہلکار ضلعی پولیس افسر ادریس خان کی قیادت میں فلیگ مارچ کررہے تھے کہ دوابہ کے مقام پر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مسلح طالبان کا آمنا سامنا ہوا۔

انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندوں نے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی جبکہ اس دوران پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی اور چھ طالبان جنگجوؤں کو حراست میں لے لیا۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ طالبان کی گرفتاری کے بعد ان کے دوسرے ساتھی بھاری ہتھیاروں سمیت دوابہ تھانے پہنچ گئے اور تھانے کو محاصرے میں لے لیا۔

عوامی نیشنل پارٹی ضلع ہنگو کے جنرل سیکرٹری ملک ریاض نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک جرگہ نے مسئلے کے پرامن حل کے لیے فریقین کے درمیان بات چیت شروع کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تھانہ بدستور طالبان جنگجوؤں کے محاصرے میں ہیں جہاں اندر کئی پولیس اور ایف سی اہلکار موجود ہیں۔

ادھر یہ بھی اطلاعات ہیں کہ طالبان نے مرکزی ٹل پارہ چنار شاہراہ پر پوزیشنیں سنبھال لی ہیں جبکہ سڑک پر گاڑیوں کا آمد و رفت بھی بند ہوگئی ہے۔

دریں اثناء اورکزئی ایجنسی میں خود کو تحریک طالبان پاکستان کے ایک ترجمان ظاہر کرنے والے شخص نے بی بی سی کو کسی نامعلوم مقام سے ٹیلی فون کرکے دعویٰ کیا ہے کہ تھانے کے محاصرے کے دوران انہوں نے سات سرکاری اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا ہے جن میں دو پولیس اور دو ایف سی اہلکاروں کے علاوہ تین دیگر سرکاری ملازمین شامل ہیں۔

ترجمان نے دھمکی دی کہ اگر ان کے ساتھیوں کو فوری طورپر رہا نہیں کیا گیا تو ان کی تحویل میں موجود سرکاری اہلکاروں کے خلاف سخت کاروائی ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے چار ساتھی جن میں انور، رفیع اللہ، نصیر اور وزیر شامل ہیں، پولیس کی حراست میں ہیں۔ گرفتار افراد کا تعلق بیت اللہ گروپ سے بتایا جاتا ہے۔