http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 08 July, 2008, 16:49 GMT 21:49 PST

عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ

کوئٹہ میں دوبارہ ایف سی تعینات

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ اور امن و امان کی صورتحال کی وجہ سے فرنٹئیر کور یعنی نیم فوجی دستوں کو ایک مرتبہ پھر شہر کے حساس مقامات پر تعینات کر دیا گیا ہے۔

منگل کے روز شہر کے حساس مقامات پر ایف سی کے اہلکاروں نے گشت کی ہے۔

پیر کی رات کو وزیر اعلٰی بلوچستان نواب اسلم رئیسانی کی سربراہی میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبائی حکومت کی جانب سے یہ درخواست کی گئی ہے کہ ایف سی کو دوبارہ شہر میں تعینات کیا جائے تاکہ ٹارگٹ کلنگ اور امن و امان کی صورتحال پر قابو پایا جا سکے۔

کوئٹہ میں اس سال کے پہلے پانچ ماہ میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں چالیس سے زیادہ افراد کو ہلاک ہوئے ہیں جن میں زیادہ تعداد قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے میں ایک پولیس اہلکار ایک وکیل اور ایک ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر سمیت دس افراد کو ہلاک اور تین کو زخمی کیا گیا ہے۔

کوئٹہ شہر میں قتل کی بڑھتی ہوئی ان وارداتوں کی وجہ سے صوبائی حکومت پر سخت تنقید کی جا رہی ہے اور آئے روز شہر میں روڈ بلاک کرکے دھرنے دیے جاتے ہیں اور احتجاجی مظاہرے کیے جاتے ہیں۔

بلوچستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہونے کے بعد مئی کے پہلے ہفتے میں کوئٹہ اور گوادر سے ایف سی کی چوکیاں ختم کر دی گئی تھیں۔

کوئٹہ میں پولیس کے ساتھ ایف سی کی کوئی بیس سے زائد چوکیاں گزشتہ سال جون میں قائم کی گئی تھیں جبکہ ایف سی کے اہلکار شہر میں گشت بھی کرتے تھے۔

اس کے علاوہ اپنے آپ کو کالعدم تنظیم بلوچ ریپبلکن آرمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے سرباز بلوچ نامی شخص نے ٹیلیفون پر دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے ڈیرہ بگٹی میں زین کوہ اور ادھر صحبت پور میں ایف سی کے قافلوں پر حملے کیے ہیں جس میں ایف سی کا نقصان ہوا ہے لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔