اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
موجودہ حکومت کے ایک سو دنوں کی ترجیحات کے بارے میں اگر جائزہ لیا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ وزیراعظم کے اعلانات میں سے کچھ پر تو عمل ہوا ہے لیکن بہت سارے ایسے بھی ہیں جن پر تاحال عمل نہیں ہوسکا اور اس دوران مہنگائی بڑھ گئی اور غریبوں کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا۔
جن اعلانات پر عمل ہوگیا
پیمرا قوانین کے خاتمے کا بل قومی اسمبلی میں پیش ہوا، بینظیر بھٹو کے قتل کی جانچ اقوام متحدہ سے کرانے کے لیے درخواست بھیج دی گئی، وزیراعظم ہاؤس کے اخراجات میں کمی، سویلین عہدوں سے بیشتر فوجی افسران کی واپسی، بلوچستان میں فوجی آپریشن میں نرمی، سردار اختر مینگل، ڈاکٹر صفدر سرکی سمیت بعض سیاسی قیدیوں کی رہائی ہوئی (لیکن اب بھی متعدد سیاسی قیدی جیل میں ہیں)، کمپیوٹرائیزڈ شناختی کارڈ کی فیس غریبوں کے لیے ختم کرنا شامل ہے۔
جن اعلانات پر عمل نہیں ہوا
ججوں کی بحالی، عام ورکر کی تنخواہ کم از کم چھ ہزار کرنا، لاپتہ افراد کی بازیابی، ایمپلائمینٹ سکیم کا اجراء ( اس سکیم کے تحت ملک بھر کے پچاس فیصد غریب خاندانوں میں فی خاندان ایک ملازمت فراہم کرنا) ، کھانے پینے کی اشیاء، سستے نرخوں پر دینے کے لیے بینظیر کارڈ کا اجراء، بجلی کی لوڈشیڈنگ میں کمی، کسانوں کو سستے بیج اور کھاد کی فراہمی، وزیرستان میں فوجی کارروائی کے بجائے بات چیت سے معاملات طے کرنا۔
بلا شبہ خود کش حملوں اور پر تشدد کارروائیوں میں کچھ کمی واقع ہوئی ہے لیکن قبائلی علاقوں کے بارے میں حکومت کی پالیسی بظاہر
مبہم لگتی ہے کیونکہ ایک طرف سکیورٹی فورسز شدت پسندوں کو پکڑتی ہیں اور کچھ روز میں بات چیت کے بعد انہیں رہا کردیا جاتا ہے۔
![]() |
|
| بجلی کی لوڈشیڈنگ میں کمی نہیں ہو سکی |
وزیراعظم نے پہلے اعلان کیا کہ فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن یعنی ایف سی آر ختم کیا جائےگا لیکن بعد میں کہا کہ اس میں وسیع پیمانے پر ترامیم کی جائیں گی لیکن تا حال کسی کو کچھ نہیں معلوم کہ اس بارے میں کیا پیش رفت ہوئی ہے۔ وہ ہی حال صوبوں کو خود مختاری دینے اور کنکرنٹ لسٹ کے خاتمے اور آئینی اصلاحات کے پیکیج کا بھی ہے۔
مہنگائی میں اضافہ
حکومت نے دعویٰ تو مہنگائی کم کرنے اور عوام کو رعایات دینے کا کیا لیکن اس کا اثر الٹا نظر آتا ہے۔ پیٹرولیم کی مصنوعات کی قیمتوں
میں اضافے کو مہنگائی کی ماں کہا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فضائی کمپنیوں، ریلوے اور ٹرانسپورٹرز نے کرایے بڑھا دیے ہیں، سبزی، پھلوں
نیز ہر ضروریات زندگی کی چیز مہنگی ہوگئی ہے۔
![]() |
|
| پیٹرولیم کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو مہنگائی کی ماں کہا جاتا ہے |
جب عوام پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہوں تو ایسے میں بجلی اور یوٹیلٹی سٹورز پر سبسڈی ختم کرنے کا جواز نہیں بنتا۔ اوپر سے وزیرِ آبپاشی راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ بجلی اور مہنگی ہوگی اور قوم کو ایک اور کڑوی گولی نگلنی ہے۔ بجلی کی قیمتوں کا تعین کرنے والے ادارے ’نیپرا‘ میں بجلی کی قیمت بارہ سے بیس فیصد بڑھانے کی ایک پٹیشن زیر غور ہے۔
واضح رہے کہ سید یوسف رضا گیلانی نے چھبیس مارچ کو بطور وزیراعظم حلف اٹھایا تھا اور انتیس مارچ کو قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد اپنی حکومت کی متعدد ترجیحات کا اعلان کیا اور کہا تھا کہ ان پر ایک سو دن میں عمل کرنے کی کوشش کریں گے۔