Monday, 07 July, 2008, 15:58 GMT 20:58 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور
صوبہ سرحد کی حکومت اور سوات کے مقامی طالبان نے ایک بار پھر امن معاہدے پر مکمل عمل درآمد کا عزم کرتے ہوئے تمام مسائل کو بات چیت کے ذریعے سے حل کرانے پر اتفاق کیا ہے جبکہ حکومت نے گرفتار تمام طالبان قیدیوں کی فوری رہائی اور سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں میں کمی کی یقین دہانی کرائی ہے۔
سوات کے صدر مقام مینگورہ میں پیر کو ریجنل کوآرڈنیشن آفیسر کے دفتر میں سرحد حکومت اور مقامی طالبان کے نمائندوں کے درمیان چند روز کے تعطل کے بعد دوبارہ امن مذاکرات کا آغاز ہوا جس میں صوبائی حکومت کی نمائندگی وزیر ماحولیات واجد علی اور ایم پی اے ڈاکٹر شمشیر علی خان نے کی جبکہ مقامی طالبان کی طرف سے ان کے ترجمان مسلم خان اور دیگر طالبان رہنماوں نے شرکت کی۔
مذاکرات کے اختتام پر صوبائی وزیر ماحولیات واجد علی خان نے بی بی سی کو بتایا کہ بات چیت بڑے اچھے اور دوستانہ ماحول میں ہوئی جس میں فریقین نے مذاکرات کے عمل سے تمام مسائل حل کرانے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سوات میں شرعی نظام کے وعدے پر قائم ہے اور دو ماہ کے اندر اندر یہ کام مکمل کر لیا جائے گا جبکہ اس سلسلے میں تمام فریقوں کو اعتماد میں لیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ سوات میں فوجی یا دیگر کارروائیوں کے دوران جن لوگوں کو جانی مالی نقصانات پہنچے ہیں ان کو کل سے چیک ملنے شروع ہوئے ہیں اور جیلوں سے تمام طالبان قیدیوں کو بھی بہت جلد ہی رہا کردیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ وادی میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے بنائے گئے چیک پوسٹوں کا ازسر نو جائزہ لیا جائے گا اور غیر ضروری چیک پوسٹوں کو باہمی مشاورت سے ختم کردیا جائے گا۔
دوسری طرف سوات میں مقامی طالبان کے ترجمان مسلم خان نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ حکومت نے ان کے تمام مطالبات پورے کرنے پر کل سے
عمل درآمد کا وعدہ کیا ہے۔
|
تمام مطالبات پر عمل کا وعدہ
|
واضح رہے کہ چند ہفتے قبل سوات کے طالبان نے تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ بیت اللہ محسود کے کہنے پر سرحد حکومت سے جاری ہر قسم کی بات چیت معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم بعد میں بیت اللہ محسود کی طرف سے خصوصی اجازت کے بعد مولانا فضل اللہ کے حامی عسکریت پسندوں نے صوبائی حکومت سے امن بات چیت دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا۔
سوات میں چند ہفتوں کے دوران طلباء و طالبات کے دو درجن سے زائد سکولوں اور ہوٹلوں کو نذرآتش یا بم دھماکوں میں نشانہ بنایا جاچکا ہے جبکہ کئی سیاسی رہنماؤں اور پولیس اہلکاروں پر بھی قاتلانہ حملے ہو چکے ہیں۔ طالبان ان حملوں سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہیں۔