http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 05 July, 2008, 23:58 GMT 04:58 PST

عبادالحق
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

عدالتوں میں تالابندی کی تجویز

پاکستان کی مختلف ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشنوں نے اپنے اجلاس میں وکلا تحریک مؤثر بنانے کے لیے لانگ مارچ یا ٹرین مارچ کرنے کے بجائے ملک کی تمام عدالتوں کی تالابندی کرنے کی سفارش کی ہے۔

ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشنوں کا اجلاس لاہور میں ہوا جس میں صوبہ پنجاب اور سندھ کی ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشنوں کے عہدیداروں نے شرکت کی۔

لاہور ہائی کورٹ بار کے سیکرٹری رانا اسد اللہ خان کے بقول بلوچستان ہائی کورٹ بار کے سالانہ انتخابات کی وجہ سے اس کے عہدیدار اجلاس میں شرکت نہیں کرسکے جبکہ صوبہ سرحد کی ہائی کورٹ بار کے عہدیدار وکلا رہنما کی وفات کی وجہ سے شریک نہیں ہوئے۔

اجلاس میں ہائی کورٹ بار کے عہدیداروں نے وکلا تحریک کو مؤثر بنانے کے لیے مخلتف سفارشات مرتب کیں جو پاکستان بارکونسل کے زیر اہتمام ہونے والے وکلا کنونشن میں منظوری کے لیے پیش کی جائیں گی۔

ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشنوں کےاجلاس کے بعد راولپنڈی ہائی کورٹ بار کے صدر سردار عصمت اللہ خان نے پریس کانفرنس میں کہا کہ حکومتی اتحاد کی طرف سے عدلیہ کی بحالی کے معاملہ پردرعمل مایوس کن ہے۔ان کے بقول ججوں کی بحالی کے حوالےسے مسلم لیگ نون کا کردار بھی زیادہ قابل ستائش نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں یہ تجویز پیش کی گئی ہے کہ وکلا رہنما اور عہدیدار پی سی او ججوں کے سامنے پیش نہ ہوں اور کسی عہدیدار نے پی سی او ججوں کے سامنے پیش ہونا ہے تو وہ پہلے اپنے عہدے سے استعفی دے۔

انہوں نے کہا کہ اجلاس میں پیپلز پارٹی کے آئینی پیکیج کو مسترد کردیا گیا ہے۔ ان کے بقول اجلاس کے شرکا کا کہنا ہے کہ یہ آئینی پیکیج عدلیہ کی آزادی سلب کرنے کے مترادف ہے۔

سردار عصمت اللہ نےبتایا کہ دس جولائی کو راولپنڈی بار کے وکلا عدلیہ کی بحالی کے لیے شاہراہ دستور پر ایک ریلی نکالیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اجلاس میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جس کا نام کل پاکستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشنز عدلیہ بحالی کمیٹی ہوگا اور یہ کمیٹی مقصد وکلا تحریک کو مؤثر اور تیز بنانا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور ملتان کی تحصیل بار ایسوسی ایشن جہانیاں کی جانب سے حکومتی گرانٹ منظور نہ کرنے اور لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور سیکرٹری کی طرف سے امریکہ کی یوم آزادی کی تقریب میں شرکت سے انکار کرنے کے اقدام کو سراہا گیا۔