Friday, 04 July, 2008, 15:33 GMT 20:33 PST
ارمان صابر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی سمیت سندھ بھر میں فلور ملز ایسوسی ایشن کی جانب سے جمعہ کو ایک روزہ علامتی ہڑتال صوبائی حکومت کے ساتھ مشروط مذاکرات کے بعد ختم کردی گئی۔
فلور ملز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ہڑتال ان کا مطالبہ تسلیم کئے جانے کے بعد ختم کی گئی ہے اور انہوں نے حکومت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ آٹے کی قیمت کو کم کردیا جائے گا۔
موجودہ حکومت کو آٹے کا بحران ورثے میں ملا ہے جس پر قابو پانے کے لئے اس نے بین الصوبائی اور صوبے کے اندر شہروں کے درمیان گندم
کی نقل و حمل پر پابندی لگادی تھی۔ گندم کی نقل و حمل پر بین الصوبائی پابندی فلور ملز مالکان کے لئے قابلِ قبول تھی مگر صوبے
کے اندر ایک شہر سے دوسرے شہر اس پابندی کو ناقابلِ قبول قرار دے دیا گیا، اور اس کے خلاف جمعہ کو احتجاجاً ایک روزہ علامتی ہڑتال
کرتے ہوئے کراچی سمیت سندھ کی تمام فلور ملوں کو بند رکھا گیا۔
البتہ دوپہر کے بعد پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے صوبائی چئرمین اقبال داؤد پاکوالا نے ایک وفد کی قیادت میں صوبائی وزیراعلٰی
سید قائم علی شاہ سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ مذاکرات کے بعد ہڑتال ختم کردی۔
اقبال داؤد پاکوالا نے کہا کہ صوبے کے اندر مختلف شہروں کے درمیان گندم کی نقل و حمل پر پابندی کی وجہ سے منافع خور فائدہ اٹھارہے تھے جبکہ فلور ملوں کو ضرورت کے مطابق گندم فراہم نہیں کی جارہی تھی جس سے آٹے کی پیداوار اور فراہمی میں مشکلات پیش آرہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ان کے مطالبہ کو تسلیم کرلیا ہے اور صوبۂ سندھ کے اندر گندم کی نقل و حمل پر عائد پابندی اٹھالی ہے۔
انہوں نے حکومت کو یقین دہانی کرائی کہ فلور مل مالکان آٹے کی قیمت جو اس وقت سائیس روپے سے تیس روپے کلو تک پہنچ چکی ہے اسے کم کرکے بائیس روپے فی کلو کی سطح تک لائیں گے۔
دوسری جانب صوبائی حکومت کی وزیرِ اطلاعات شازیہ مری کا کہنا ہے کہ فلور ملز ایسوسی ایشن کا مطالبہ تو تسلیم کرلیا گیا ہے لیکن اسے آٹے کی قیمتوں میں کمی کرنےسے مشروط کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ فلور ملز مالکان کا ایک ہی بنیادی مطالبہ تھا جسے تسلیم کرلیا گیا ہے اور حکومت نے ان سے کہا ہے کہ آٹے کی قیمت کو کم کیا جائے۔ ان کے بقول فلور مل مالکان سے کہا گیا ہے کہ حکومت دس روز کے بعد فلور مل ایسوسی ایشن کے ارکان سے ایک اور اجلاس کرے گی جس میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ حکومت نے جس شرط پر پابندی اٹھائی وہ مقصد حاصل ہوا یا نہیں۔
گزشتہ سال ملک میں آنے والے کئی بحرانوں میں سے ایک آٹے کا بحران بھی تھا جو پچھلی حکومت کو اپنے ساتھ بہا لے گیا تھا۔ موجودہ حکومت آٹے، بجلی اور مہنگائی جیسے بحرانوں سے کس طرح نبرد آزما ہوتی ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا۔