Friday, 04 July, 2008, 06:49 GMT 11:49 PST
امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی کے سیکرٹری مائیکل چیرٹوف کا کہنا ہے کہ القاعدہ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں دوبارہ منظم ہو رہی ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اس بات پر شدید خدشات ہیں کہ القاعدہ اور اس جیسے گروپ افغانستان سے متصل پاکستانی سرحدی قبائلی علاقوں کو مرکز بنا کر اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ پاکستان ابھی القاعدہ کے لیے ویسی محفوظ پناہ گاہ نہیں بن سکا ہے جیسا کہ کبھی افغانستان تھا لیکن اس کے باوجود نہ امریکہ اس معاملے میں بے فکری کا مظاہرہ کر سکتا ہے اور نہ پاکستان کو کرنا چاہیے۔
مائیکل چیرٹوف نے کہا کہ ’ہمارا سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ القاعدہ اور اس سے ملتے جلتے گروپ ایسی محفوظ جگہیں حاصل کرنے کے قابل ہیں جہاں وہ نہ صرف نئے لوگوں کو لا کر ان کی تربیت کر سکتے ہیں بلکہ تحقیقاتی مراکز بھی قائم کر سکتے ہیں اور پھر ان علاقوں سے مغرب کے خلاف حملے کیے جا سکتے ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک برس کے دوران دیکھا گیا ہے کہ وہ پاکستان میں کچھ منظم ہونے میں کامیاب ہوئے ہیں اور یہ بات باعثِ تشویش ہے۔ مائیکل چیرٹوف کا یہ بھی کہنا تھا کہ القاعدہ اور اس سے ملتے جلتے گروپوں کا پاکستان میں منظم ہونا صرف امریکہ میں ہی نہیں بلکہ یورپ میں اس کے اتحادیوں میں بھی خدشات پیدا کر رہا ہے اور اس معاملے پر پاکستانی حکام کو بھی یقیناً تشویش ہو گی۔
یاد رہے کہ امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی کے سیکرٹری کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف ایڈمرل مائیک مولن نے بدھ کو امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں محکمۂ دفاع کی پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ القاعدہ اور طالبان کے رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے لیے بطور فوجی انہیں مکمل اختیار حاصل ہے۔
ان کا یہ بیان امریکی ذرائع ابلاغ میں آنے والی ان متواتر رپورٹوں کے بعد سامنے آیا ہے کہ صدر بش اور پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ مشرف کے درمیان یہ سمجھوتہ ہوچکا ہے کہ امریکہ پاکستانی سرزمین پر القاعدہ اور طالبان کے خلاف میزائل حملے کرسکتا ہے۔