http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 03 July, 2008, 07:33 GMT 12:33 PST

عزیز اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

بلوچستان کے بعض علاقوں میں ہڑتال

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سمیت بلوچستان کے بیشتر جنوبی اضلاع میں آج فوجی آپریشن سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں اور بدامنی کے خلاف مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جا رہی ہے جبکہ ادھر ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ہے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ اور انجمن تاجران کی اپیل پر کوئٹہ میں کاروباری مراکز اور دکانیں بند ہیں۔

بی این پی کے رہنما حبیب جالب ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں کسی نہ کسی حوالے سے فوجی آپریشن آج بھی جاری ہے اور سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریوں کے علاوہ انھیں ہراساں کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ آج کی ہڑتال حکمرانوں ک آنکھیں کھولنے کے لے کافی ہے۔

حبیب جالب ایڈووکیٹ نے کہا کہ بلوچستان کے بشتر جنوب اضلاع جیسے مستونگ، قلات، خضدار، حب، پنجگور اور دیگر علاقوں میں بھی آج ہڑتال کی جا رہی ہے۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ صوبے میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے تو انھوں نے کہا کہ یہ سب کچھ ایجنسیوں کا کیا دھرا ہے اور حکمرانوں کو اس کا علم ہے۔

اس کے علاوہ گزشتہ دنوں ایک رکشہ ڈرائیور اور تین نوجوانوں کے قتل کے واقعات کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ہے۔ رکشہ ڈرائیوروں نے میونسپل کارپوریشن کے دفتر کے سامنے بڑی تعداد میں رکشے کھڑ ے کر کے سڑک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دی تھی۔

تین روز پہلے کوسریاب روڈ پر ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک رکشہ ڈرائیور کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا جبکہ منگل کو رات کے وقت بروری روڈ پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے تین آباد کاروں کو ہلاک کر دیا تھا۔ اسی طرح گزشتہ روز جناح روڈ پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ایک ٹریفک پولیس کے اہلکار کو ہلاک کر دیا تھا جبکہ سٹی تھانے میں ایک دستی بم پھینکنے سے دو پولیس اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔