Wednesday, 02 July, 2008, 11:24 GMT 16:24 PST
علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے عدلیہ بحالی تحریک کو مزید پرجوش طریقے سے شروع کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ انیس جولائی کو لاہور میں ہونے والے نمائندہ وکلاء کنونشن میں دوسرے لانگ مارچ اور دھرنے کی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری امین جاوید نے لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کنونشن میں آئندہ کی حکمت عملی طے کی جائے گی البتہ اس بار کسی مصلحت سے کام نہیں لیا جائے گا اور ججوں کی بحالی تک اسلام آباد میں دھرنا جاری رہے گا۔انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی بحالی کے لیے ایک ہزار لانگ مارچ بھی کرنا پڑے تو کیے جائیں گے۔
انہوں نے عدلیہ بحالی کے مجوزہ آئینی پیکج کو ایک لالی پاپ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک طرف حکومت آئینی ترمیم کے ذریعے ججوں کی بحالی کرنے کا کہتی اور دوسری طرف یہ کہتی ہے کہ اس کے پاس آئینی ترمیم کے لیے درکار دو تہائی اکثریت نہیں ہے۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری نے کہا کہ حکومت ججوں کی بحالی میں مخلص نہیں ہے اور اسے سرد خانے میں ڈالنے کے لیے مہنگائی کا طوفان کھڑا کیا جا رہا ہے تاکہ عوام کی توجہ اس قومی مسئلہ سے ہٹ جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہونے دیا جائے گا اور حکومت نے اگر مہنگائی کا جن قابو نہ کیا تو وکلاء مہنگائی کے معاملہ پر بھی حکومت مخالف ریلی نکالیں گے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اعلان مری کے مطابق ایک ایگزیکٹو آڈر اور سادہ قرارداد کے تحت ججوں کو بحال کردیا جائے۔ امین جاوید ایڈوکیٹ نے بتایا کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بیرسٹر اعتزاز احسن غیر ملکی دورے پر ہیں جہاں وہ دنیا بھر کی وکلاء تنظیموں سے رابطہ کر رہے ہیں تاکہ ایک انٹرنیشنل وکلاء کنونشن بلایا جا سکے۔