Tuesday, 01 July, 2008, 14:27 GMT 19:27 PST
بیورو رپورٹ
اسلام آباد
پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری نے یونان میں انٹرنیشنل سوشلسٹ کانگرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغرب نے آج تک پاکستان کی فوج اور ہتھیاروں میں سرمایہ کاری کی ہے اس کے عوام میں نہیں۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو پاکستان کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے پر بڑی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق انہوں نے ایتھنز میں اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کو افغانستان میں روسیوں کی شکست کے بعد شدت پسندوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا تھا۔
ان کا موقف تھا کہ ملک کو اب بھی اعتدال پسندی کا ماڈل بنایا جا سکتا ہے جس کے لیے بین الاقوامی برادری کی امداد کی ضرورت ہوگی۔
’ہر ماہ پاکستان کے قبائلی علاقوں اور افغانستان میں نئے سیاسی مدرسے اور سخت گیر خیالات والی مساجد سامنے آتی ہیں البتہ انہوں نے بین الاقوامی برادری سے پوچھا کہ کیا اقوامِ متحدہ، امریکہ یا برطانیہ نے کسی بھی دہشتگردی کے خلاف جنگ سے متاثر ہونے والوں کو ایک روپے کی بھی امداد دی؟
انہوں نے کہا کہ پاکستان واحد قوم ہے جسے سب سےزیادہ دہشت گردی نے نقصان پہنچایا ہے لیکن پھر بھی وہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ’ہم مہذب دنیا کے ساتھی کی طرح پاکستان کی آن اور شان کے لیے آخری دم تک لڑتے رہیں گے۔‘
انہوں نے اس مسئلے کےحل کے لیے جنوبی اور وسطی ایشیاء کی علاقائی کانفرنسیں طلب کرنے کی تجویز دیں تا کہ وہ نہ صرف دہشتگردی اور طالبان کے خلاف جنگ میں بلکہ اقتصادی اور معاشی معاملات میں بھی پاکستان کا ساتھ دیں۔
آصف زرداری نے کہا کہ پاکستانی عوام پر اُمید ہے اور انہیں اپنے روشن مستقبل پر پورا بھروسہ ہے اور وہ امن و امان کو بحال کرکے پاکستان سے دہشتگردی کا نام و نشان مٹا دیں گے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہوں نے قبائلی علاقوں میں معاشی، سیاسی اور سماجی تبدیلی لانے کے لیے بھی بہتر منصوبہ بندی کر لی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اس وقت پانی کی کمی اور تونائی کے بحران کا سامنا ہے جو اس وقت ترقی کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہے لیکن حکومت نے دو ہزار دو سو میگا واٹ بجلی کا منصوبہ تیار کر لیا ہے جو اس مسئلے کو ختم کرنے میں مدد دے گا۔
آخر میں انہوں نے تعلیم کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان مفت تعلیم، یونیفارم اور نصابی کتب دینے کا منصوبہ بنا چکی ہے جس سے بچوں میں تعلیم حاصل کرنے کا رحجان بڑھےگا اور اگر کسی مدرسے نے اس نصاب کو ماننے سے انکار کیا تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور ان مدارس کو بند کر دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کو تو قتل کر دیا گیا لیکن ان کہ خواب، ان کے مقاصد آج تک لوگوں کے دلوں میں ہیں۔ ’ایک انسان کو مارا جاسکتا ہے لیکن اس کے خیالات اور احساسات کو نہیں۔’