Monday, 30 June, 2008, 11:51 GMT 16:51 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے پاکستانی دورے پر آئے امریکی نائب وزیر خارجہ رچرڈ باؤچر پر واضح کیا ہے کہ ان کی حکومت شدت پسندوں سے مذاکرات نہیں کرے گی اور نہ ہی غیرملکیوں کو اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت دیں گے۔
امریکی نائب وزیر خارجہ کے اس دورے کا اعلان گزشتہ دنوں پاکستان کی جانب سے قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف آخری حربے کے طور پر عسکری کارروائی کے اعلان کے بعد کیا گیا تھا۔ امریکہ نے اس پاکستانی فیصلہ کی تعریف کی تھی۔
نئی حکومت کی جانب سے پہلی عسکری کارروائی کے آغاز کے بعد یہ کسی امریکی اہلکار کا پہلا دورہ ہے۔ اس سے قبل امریکی نائب وزیر خارجہ حکومت سازی کے موقع پر پاکستان میں موجود تھے۔
آمد کے بعد رچرڈ باؤچر نے پہلی ملاقات وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی سے کی۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ انہیں خیبر ایجنسی میں جاری کارروائی کے لیے عوام سے کافی حمایت ملی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سرحد پر نظر رکھنے کی ذمہ داری افغانستان کی بھی بنتی ہے جس کی پاکستان کی نو سو چوکیوں کے مقابلے میں صرف سو چوکیاں قائم ہیں۔ انہوں نے امریکی سفیر کو یقین دلایا کہ ان کی حکومت افغانستان میں پائیدار امن کی خواہاں ہے۔
اس موقع پر امریکی وزیر خارجہ نے نئی حکومت کو اپنی حمایت اور افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی میں مدد کا یقین دلایا۔
ملاقات میں مشیر داخلہ رحمان ملک، مشیر برائے قومی سلامتی محمود درانی اور امریکی سفیر این پیٹرسن بھی موجود تھیں۔
اس سے قبل مشیر داخلہ نے وزیر اعظم کو قبائلی علاقوں کی تازہ صورتحال سے آگاہ کیا۔
ادھر امریکی کانگرس کے ایک وفد نے بھی وزیر اعظم اور صدر جنرل (ر) پرویز مشرف سے الگ الگ ملاقاتیں کی ہیں۔
رچرڈ باؤچر کی فوجی قیادت سے ملاقات بھی متوقع ہے۔