Sunday, 29 June, 2008, 18:57 GMT 23:57 PST
امداد علی سومرو
لاہور
وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ سرحد اور قبائلی علاقوں میں ہونے والی دہشتگردی میں بیرونی ہاتھ ملوث ہونے کا امکان مسترد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ پاکستان کے کئی دشمن ہیں۔
اتوار کے روز لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے یوسف رضا نے کہا کہ شدت پسندوں سے معاہدوں کی خلاف ورزی کے بعد آپریشن کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہ گیا تھا۔
وزیر اعظم نے صحافیوں کے مختلف سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ سرحد میں شرپسندوں کے خلاف فوجی آپریشن کے فیصلے سے حکومتی اتحادیوں کو آگاہ کیا گیا تھا۔
آپریشن شروع کرنے سے قبل فوجی سربراہ نے ملکی سرحدوں، سوات، فاٹا اور سرحد کے دوسرے علاقوں کی بریفنگ دی اور تمام متعلقہ اداروں
کو اعتماد میں لیا گیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ صوبائی حکومت نے ایسے قبائلیوں سے معاہدے کئے جنہوں نے ہتھیار ڈال دیئے لیکن جب خلاف ورزی ہوئی تو پھر صوبائی
حکومت اور قانوں نافذ کرنے والے اداروں کے پاس فوجی آپریشن کے سوا اور کوئی راستہ نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ جب لڑکیوں کے سکول جلائے گئے، لوگوں کو سرعام پھانسیاں دی گئیں، متبادل حکومتیں قائم ہوگئیں اور مذہبی اقلیت کے لوگ پشاور شہر سے اغوا کر کے لئے گئے تو کارروائی کرنا پڑی ۔
جب وزیر اعظم سے سوال کیا گیا کہ کیا ان قوتوں کے خلاف بھی آپریشن کیا جائے گا جنہوں نے ان دہشتگردوں کو پیدا کیا تو اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’ملک میں ابھی جو کچھ ہو رہا ہے اس کی طرف آئیں ، مردہ گھوڑے اکھاڑنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔‘
وزیراعظم نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں بیرونی ہاتھ ملوث ہونے کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ پاکستان کے بہت سے دشمن ہیں اس لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ بیرونی ہاتھ ملوث نہیں ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ خیبر ایجنسی میں امریکہ کے دباؤ میں آپریشن شروع نہیں کیا گیا۔ان کا کہنا تھا ان کی قائد بینظیر بھٹو بھی دہشتگردی کا شکار ہوئی لہذا یہ ہم اپنی جنگ لڑ رہے ہیں، اپنے ملک کی جنگ لڑ رہے ہیں، اور ملک خودمختیاری، آزادی اور وقار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی مذاکرات ان کی اولیت ہیں لیکن یہ کا طریقہ کچھ علاقوں میں ناکام ہو رہا تھا یہ ہی وجہ ہے حکومت نے فوجی
آپریشن کا آخری طریقہ استعمال کیا۔