Wednesday, 25 June, 2008, 14:00 GMT 19:00 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈام کام، اسلام آباد
حکومت پاکستان نے فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کو اختیار دیا ہے کہ وہ مصدقہ خفیہ معلومات کی بنیاد پر دہشت گردوں کو سرحد پار جانے سے روکنے کے لیے فوری کارروائی کرسکیں گے۔
اس کے علاوہ گورنر سرحد کو قبائلی علاقوں میں تمام سرگرمیوں اور مصالحتی کوششوں کے لیئے چیف رابطہ کار مقرر کیا ہے۔ وہ وفاقی و صوبائی حکومتوں، اہم سیاسی رہنماؤں اور مقامی عسکری قیادت کے درمیان رابطے کا کام کریں گے۔
یہ فیصلے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کی صدارت میں وزیر اعظم ہاؤس میں قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد میں شدت پسندوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں سے سیکورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر غور کے لیئے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیئے گئے۔
اجلاس میں فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے علاوہ گورنر سرحد اویس غنی، وزیر اعلی سرحد امیر حیدر خان ہوتی، وزیر خارجہ شاہ
محمود قریشی، مشیر داخلہ رحمان ملک، مشیر برائے قومی سلامتی محمود علی درانی، وزیر ماحولیات حمید اللہ جان آفریدی، وزیر برائے
سیفران نجم الدین خان اور خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے اہلکاروں نے شرکت کی۔
![]() |
|
| قبائلی علاقوں می طالبان کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے |
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وہ سیاسی عمل کے ذریعے شدت پسندی پر قابو پانے کی بھرپور کوشش کرے گی تاہم ترقیاتی منصوبوں اور محدود طاقت کے استعمال سے بھی کام لیا جائے گا۔
اجلاس میں فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کو فوجی کارروائی کے مقام، مقدار اور تعین کا اختیار حاصل ہوگا۔ وہ عسکری کوشش کی سربراہی کریں گے۔
اعلیٰ فوجی حکام کی جانب سے اجلاس کے شرکاء کو مقامی طالبان کی جاری کارروائیوں اور ان کے ممکنہ اثرات کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں جنڈولہ، کرم ایجنسی اور خیبر ایجنسی میں فوجی آپریشں اور دیگر آپشنز پر غور کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں نیٹو کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی اور حملوں سے نمٹنے کی حکمت عملی پر بھی بات چیت کی گئی۔